- Advertisement -

Toot Jaanay Mein

An Urdu Ghazal By Abbas Tabish

ٹوٹ جانے میں کھلونوں کی طرح ہوتا ہے

آدمی عشق میں بچوں کی طرح ہوتا ہے

اس لئے مجھ کو پسند آتا ہے صحرا کا سکوت

اس کا نشہ تری باتوں کی طرح ہوتا ہے

ہم جسے عشق میں دیتے ہیں خدا کا منصب

پہلے پہلے ہمیں لوگوں کی طرح ہوتا ہے

جس سے بننا ہو تعلق وہی ظالم پہلے

غیر ہوتا ہے نہ اپنوں کی طرح ہوتا ہے

چاندنی رات میں سڑکوں پہ قدم مت رکھنا

شہر جاگے ہوئے ناگوں کی طرح ہوتا ہے

بس یہی دیکھنے کو جاگتے ہیں شہر کے لوگ

آسماں کب تری آنکھوں کی طرح ہوتا ہے

اس سے کہنا کہ وہ ساون میں نہ گھر سے نکلے

حافظہ عشق کا سانپوں کی طرح ہوتا ہے

اس کی آنکھوں میں امڈ آتے ہیں آنسو تابشؔ

وہ جدا چاہنے والوں کی طرح ہوتا ہے

عباس تابش

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
An Urdu Ghazal By Shaheen Abbas