آپ کا سلاماردو غزلیاتسعید شارقشعر و شاعری

کبھی خائف تھا فقط در مجھ سے

سعید شارق کی ایک اردو غزل

کبھی خائف تھا فقط در مجھ سے
بھاگتا پھرتا ہے اب گھر مجھ سے

مجھے مت دیکھ مرے پاس نہ آ
میں فسردہ ہوں بہت ڈر مجھ سے

لڑکھڑاتی ہوئی پھرتی ہے نگاہ
ٹوٹتے جاتے ہیں منظر مجھ سے

شام کے بوجھ سے دوہری ہے کمر
کیا اٹھے رات کا پتھر مجھ سے

میں رواں تھا کسی دریا کی طرح
ناؤ ٹکراتی رہی سر مجھ سے

متوازن نہ رہے بود و نبود
دونوں پلڑے تھے برابر مجھ سے

موجۂ گرد اٹھے گا شارقؔ
اور پلٹ جائے گا ہو کر مجھ سے

سعید شارق

post bar salamurdu

سعید شارق

سعید شارق، ایم اجمل سعید 1993 میں پیدا ہوئے، اسلام آباد، پاکستان کے ایک مشہور نوجوان شاعر ہیں۔ 24 سال کی عمر میں، اس نے بڑے پیمانے پر تعریفی اور باوقار ایوارڈز حاصل کیے، جن میں پروین شاکر اکس-خوشبو ایوارڈ، بابا گرو نانک ادبی ایوارڈ، اور اپنے پہلے مجموعہ سایہ (2017) کے لیے کار خیر ایوارڈ شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button