آپ کا سلاماردو نظمشعر و شاعریمحمد حجازی

اے بھگوائی

ایک اردو نظم از محمد حجازی

سکھا نہ تّو سبقِ شرک مجھے اے بھگوائی جان لے
ہے بدر سے نسبت میری، بن جاؤ نہ فدائی جان لے

صدیوں رہا یوں ہی پّر امن سنگ میرے آشیانہ تیرا
گزر نہ پائی صدی، ظاہر ہوئی تیری بے وفائی جان لے

روک دیا ہے نماز سے ، آذاں سے، کبھی تبلیغ سے تونے
اب جاری ہے جنگ ، تب تک نہ ہو تیری پسپائی جان لے

کس ظرف سے سکھاؤ گے، مجھے تقدیسِ عورت تم
ہے بےشرم تو، مجھ سے پانڈاؤں کی پارسائی جان لے

زندہ مدفن بنات کو بچایا ہے ، پنجہِ مشرک سے ہم نے
سکھا نہ تو مسئلہِ طلاق ،ہم سے درس رہنمائی جان لے

ممکن نہیں راحت اّنہیں شھادتِ بابری کے بعد حجازی
پلٹ جائیں گی بازی جلد، تّو مشرک ہرجائی جان لے

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button