اردو غزلیاتسعود عثمانیشعر و شاعری

عجب خجالتِ جاں ہے نظر تک آئی ہوئی

سعود عثمانی کی ایک اردو غزل

عجب خجالتِ جاں ہے نظر تک آئی ہوئی

کہ جیسے زخم کی تقریبِ رونمائی ہوئی

نظر تو اپنے مناظر کی رمز جانتی ہے

کہ آنکھ کہہ نہیں سکتی سنی سنائی ہوئی

برونِ خاک فقط چند ٹھیکرے ہیں مگر

یہاں سے شہر ملیں گے اگر کھدائی ہوئی

خبر نہیں ہے کہ تو بھی وہاں ملے نہ ملے

اگر کبھی مرے دل تک مری رسائی ہوئی

میں آندھیوں کے مقابل کھڑا ہوا ہوں سعود

پڑی ہے فصلِ محبت کٹی کٹائی ہوئ

سعود عثمانی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button