-
آپ کا سلام

کشتی اُلٹتا، موجِ مہ و سال کھینچتا
سعید شارق کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

میں اپنے عقب میں ہوں گلی ہے مرے پیچھے
سعید شارق کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

بہت امید تھی وابستہ رہ گزار کے ساتھ
سعید شارق کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

سلگتے بجھتے جزیروں پہ نخل جڑتی ہے
سعید شارق کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

کیسے شہروں کو فنا کرتا ہوا گزرا تھا
سعید شارق کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

روشن پہاڑیوں سے ادھر کوہ تار میں
سعید شارق کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

کبھی خائف تھا فقط در مجھ سے
سعید شارق کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

اشک کیسے یہ کوئی اور نمی نکلی ہے
سعید شارق کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

ردائے اشک میں لپٹی ہوئی نہیں لگتی
سعید شارق کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

رگوں سے یاد کا نیلا لہو نچوڑتا ہوں
سعید شارق کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

دل میں اترے نہ اداسی سے بھری کہلائے
سعید شارق کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا
سعید شارق کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

عجب نہیں کہ برس جائے ابر چھائے بغیر
سعید شارق کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

گزر نہ جائے سماعت کے سرد خانوں سے
سعید شارق کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

کشت دیار صبح سے تارے اگاؤں میں
سعید شارق کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

مِری چمک دمک اب
سعید شارق کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

سانس کی دھار ذرا گھستی ذرا کاٹتی ہے
سعید شارق کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

دیکھ پائے تو کرے کوئی پذیرائی بھی
سعید شارق کی ایک اردو غزل
-
آپ کا سلام

عجب موجودگی ہے جو کمی پر مشتمل ہے
سعید شارق کی ایک اردو غزل
