آپ کا سلاماردو غزلیاتسعید شارقشعر و شاعری

جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا

سعید شارق کی ایک اردو غزل

جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا
وہ زخم مجھے بار دگر کیوں نہیں لگتا

ہم دونوں کی ویرانی بھی شامل ہے تو یہ دشت
کیوں دشت نظر آتا ہے گھر کیوں نہیں لگتا

ویسے میں تماشا تو تجھے لگتا ہوں اب بھی
اک بار ذرا دیکھ ادھر کیوں نہیں لگتا

کیوں خرچ کیے جاتا ہوں تیری بھی اداسی
اب تیرا ضرر اپنا ضرر کیوں نہیں لگتا

یہ ان چھوئے احساس کی ہر پور میں گردش
اس طرح ہمیں زندگی بھر کیوں نہیں لگتا

اچھا در تنہائی کھلا رہنے دوں یعنی
دیوار سے لگ جاؤں مگر کیوں نہیں لگتا

کیا ہے کہ کبھی پھولوں میں ڈھلتی نہیں کلیاں
یہ غم کا شجر ہے تو ثمر کیوں نہیں لگتا

کیوں روح نہیں کانپتی کچھ سوچ کے شارقؔ
ڈرتا ہوں کہ اب ہجر سے ڈر کیوں نہیں لگتا

سعید شارق

post bar salamurdu

سعید شارق

سعید شارق، ایم اجمل سعید 1993 میں پیدا ہوئے، اسلام آباد، پاکستان کے ایک مشہور نوجوان شاعر ہیں۔ 24 سال کی عمر میں، اس نے بڑے پیمانے پر تعریفی اور باوقار ایوارڈز حاصل کیے، جن میں پروین شاکر اکس-خوشبو ایوارڈ، بابا گرو نانک ادبی ایوارڈ، اور اپنے پہلے مجموعہ سایہ (2017) کے لیے کار خیر ایوارڈ شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button