آپ کا سلاماردو غزلیاتسعید شارقشعر و شاعری

کشت دیار صبح سے تارے اگاؤں میں

سعید شارق کی ایک اردو غزل

کشت دیار صبح سے تارے اگاؤں میں
جی چاہتا ہے نت نئے منظر دکھاؤں میں

وہ شخص چیختا ہوا انبوہ بن چکا
کس کس کو بولنے دوں کسے چپ کراؤں میں

اب تو ہنسی بھی ختم ہے افسردگی بھی ختم
لب بستۂ ازل تجھے کتنا ہنساؤں میں

اک خواب مثل اشک نکل آئے چشم سے
دروازۂ گماں جو کبھی کھٹکھٹاؤں میں

تو آ چکا ہے دیکھ لیا مان بھی لیا
اب اور کیا کروں تجھے سر پر بٹھاؤں میں

کیا فرق پڑ سکے گا اندھیرے کی شرح میں
کچھ دیر روشنی سے اگر بھر بھی جاؤں میں

خاموش رہ کہ پھر تری آواز سن سکوں
نظروں سے دور جا کہ تجھے دیکھ پاؤں میں

آئینے اس طرح مجھے تکتا ہے کس لیے
پہچان بھی لیا کہ تعارف کراؤں میں

شارقؔ ہر ایک شکل سے ملتی ہے کوئی شکل
آخر بدن پہ کون سا چہرہ لگاؤں میں

سعید شارق

post bar salamurdu

سعید شارق

سعید شارق، ایم اجمل سعید 1993 میں پیدا ہوئے، اسلام آباد، پاکستان کے ایک مشہور نوجوان شاعر ہیں۔ 24 سال کی عمر میں، اس نے بڑے پیمانے پر تعریفی اور باوقار ایوارڈز حاصل کیے، جن میں پروین شاکر اکس-خوشبو ایوارڈ، بابا گرو نانک ادبی ایوارڈ، اور اپنے پہلے مجموعہ سایہ (2017) کے لیے کار خیر ایوارڈ شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button