نظر سے نم نہ گیا روح سے کسک نہ گئی
بدن سے جب تک اداسی مری چھلک نہ گئی
مری تو آہ بھی شاید ہوا سے بھاری ہے
زمین تک ہی رہی آسمان تک نہ گئی
میں سوچتا رہا جب تک دماغ شل نہ ہوا
میں دیکھتا رہا جب تک نگاہ تھک نہ گئی
وہ برشگال کہیں حافظے میں رہ گئی ہے
گھٹا برس گئی لیکن گرج چمک نا گئی
کرن نے سبزہ بھرے باغ سے گزر نا کیا
کہ جب تک اوس کے قطروں سے راہ ڈھک نا گئی
میں تجھ سے کٹ کے جلا شاخ صندلیں کی طرح
میں راکھ ہو گیا مجھ سے تری مہک نا گئی
شاہد ماکلی








