اردو غزلیاتشاہد ماکلیشعر و شاعری

نظر سے نم نہ گیا

شاہد ماکلی کی ایک اردو غزل

نظر سے نم نہ گیا روح سے کسک نہ گئی
بدن سے جب تک اداسی مری چھلک نہ گئی

مری تو آہ بھی شاید ہوا سے بھاری ہے
زمین تک ہی رہی آسمان تک نہ گئی

میں سوچتا رہا جب تک دماغ شل نہ ہوا
میں دیکھتا رہا جب تک نگاہ تھک نہ گئی

وہ برشگال کہیں حافظے میں رہ گئی ہے
گھٹا برس گئی لیکن گرج چمک نا گئی

کرن نے سبزہ بھرے باغ سے گزر نا کیا
کہ جب تک اوس کے قطروں سے راہ ڈھک نا گئی

میں تجھ سے کٹ کے جلا شاخ صندلیں کی طرح
میں راکھ ہو گیا مجھ سے تری مہک نا گئی

شاہد ماکلی

post bar salamurdu

شاہد ماکلی

شاہد ماکلی تونسہ کے گاؤں مکول کلاں سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کی تاریخ پیدائش 31 اگست 1977 ہے۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور، سے میٹلرجی اینڈ میٹریلز سائنس میں بی ایس سی انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کی۔ آپ کا پہلا شعری مجموعہ ”موج“ 2000 میں شایع ہوا۔ جب کہ دوسرا مجموعہ ”تناظر“ کے نام سے 2014 میں شایع ہوا۔ اس کے علاوہ آپ معروف ادبی جریدے ”آثار“ سے بہ طور مدیر منسلک ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button