- Advertisement -

جگرکےخوں سے ہی لےکے

ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل

جگرکےخوں سے ہی لےکے سُرخی، گلاب سارے ہیں مسکراتے
ہماری دنیا اُجڑ چکی تو، جناب سارے ہیں مسکراتے

یہ دنیا فانی ہےچاردن کی، نہیں ہے سمجھا یہ آدمی بھی
توغور کر اپنی بےبسی پر، حباب سارے ہیں مسکراتے

کتابِ اُلفت میں پڑھ چکا ہوں، پیاس پھربھی رہی ہے باقی
جوتشنگی کو ہیں دیکھتے تو،نصاب سارے ہیں مسکراتے

محبتوں کےسفر میں یارو، وہ ہم سفرتھا خبر نہیں ہے
میں دربدرہوں جوپھرتا اب بھی، سراب سارے ہیں مسکراتے

نہ بن سکا ہے یہ میرا عنواں، جو عاشقی کے نصاب میں بھی
ہوں بےبسی کی میں اس فضا میں، کہ باب سارے ہیں مسکراتے

میں غم کی آتش میں جل رہاہوں، کہ دھیرےدھیرے سلگ رہا ہوں
وجودِعاشق کو دیکھ کر اب، کباب سارے ہیں مسکراتے

ستم وہ ڈھاتا ہے اس طرح سے،کہ جسم سارا ہےزخمی زخمی
ہوں دل دریدہ تو سر بُریدہ، عتاب سارے ہیں مسکراتے

وفا کےبدلے جفا ہے کرتا، کسی کا دینا نہیں وہ رکھتا
کیا ہے کھاتہ بےباق ایسا، حساب سارے ہیں مسکراتے

میں پڑھ چکا ہوں اگرچہ سارا، کُھلا نہیں اک بھی رازساقی
چڑھا کےرکھتا نقاب ایسا، حجاب سارے ہیں مسکراتے

ڈاکٹر الیاس عاجز

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ارشاد نیازی کی ایک غزل