ادریس بابراردو غزلیاتشعر و شاعری

اب مسافت میں تو آرام نہیں آ سکتا

ایک اردو غزل از ادریس بابر

اب مسافت میں تو آرام نہیں آ سکتا

یہ ستارہ بھی مرے کام نہیں آ سکتا

یہ مری سلطنت خواب ہے آباد رہو

اس کے اندر کوئی بہرام نہیں آ سکتا

جانے کھلتے ہوئے پھولوں کو خبر ہے کہ نہیں

باغ میں کوئی سیہ فام نہیں آ سکتا

ہر ہوا خواہ یہ کہتا تھا کہ محفوظ ہوں میں

بجھنے والوں میں مرا نام نہیں آ سکتا

میں جنہیں یاد ہوں اب تک یہی کہتے ہوں گے

شاہزادہ کبھی ناکام نہیں آ سکتا

ڈر ہی لگتا ہے کہ رستے میں نہ رہ جاؤں کہیں

کہلوا دیجئے میں شام نہیں آ سکتا

ادریس بابر

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button