- Advertisement -

وہ جو قرض اک تھا زبان پر

مشتاق یوسفی کی ایک اردو مزاحیه تحریر

وہ جو قرض اک تھا زبان پر، وہ حساب آج چکا دیا

مولانا صبح تڑکے بلبن کو لینے آ گئے۔ گیارہ بجے اسے نارتھ ناظم آباد کی پہاڑیوں کی تلیٹی میں گولی ماری جانے والی تھی۔

بشارت ناشتے پر بیٹھے تو ایسا محسوس ہوا جیسے حلق میں پھندالگ گیا ہو۔ آج انھوں نے بلبن کی صورت نہیں دیکھی۔ "گولی تو ‌ظاہر ہے پیشانی پر مارتے ہوں گے۔ ” انھوں نے سوچا بائیں آنکھ کی بھونری واقعی منحوس نکلی۔ جان لے کر رہے گی۔ مولانا کو انھوں نے رات ہی کو ہدایت کر دی تھی کہ لاش کو اپنے سامنے ہی گڑھے میں دفن کرا دیں۔ جنگل میں چیل کوؤں کے لیے پڑی نہ چھوڑیں۔ انھیں جھرجھری آئی اور وہ کباب پراٹھا کھائے بغیر اپنی دکان روانہ ہو گئے۔ راستے میں انھوں نے اس کا ساز اور روہڑ کا وہ خون آلود پیڈ پڑا دیکھا جو اس کی زخمی گردن پر باندھا جاتا تھا۔ ایسا لگا جیسے انھیں کچھ ہو رہا ہے۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے نکل گئے۔

بزرگوار کو اصل صورتِ احوال سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ انھیں صرف یہ بتایا گیا کہ بلبن دو ڈھائی مہینے کے لیے چَرائی پر پنجاب جا رہا ہے۔ وہ کہنے لگے "گائے بھینسوں کو تو چرائی پر جاتے سنا تھا، مگر گھوڑے کو گھانس کھانے کے واسطے کرانچی سے صوبہ پنجاب جاتے آج ہی سنا! کرانچی سے تو صرف سیٹھ اور لکھ پتی سیزن کے سیزن چَرائی پر کوہ مری جاویں ہیں۔ ” یہ ان سے الجھنے کا موقع نہیں تھا۔ ان کا بلڈ پریشر پہلے ہی بہت بڑھا ہوا تھا۔ انھیں کسی زمانے میں اپنی طاقت اور کسرتئ بدن پر بڑا ناز تھا۔ اب بھی بڑے فخر سے کہتے تھے کہ میرا بلڈ پریشر دو آدمیوں کے برابر ہے۔ دو آدمیوں کے برابر والے دعوے کی ہم بھی تصدیق کریں گے کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ انھیں معمولی سا درد ہوتا تو دو آدمیوں کی طاقت سے چیختے تھے۔ لہٰزا بشارت اپنے دروغِ مصلحت آمیز پر ڈٹے رہے۔ اور ٹھیک ہی کیا۔ مرزا اکثر کہتے ہیں کہ اپنے چھوٹوں سے کبھی جھوٹ نہیں بولنا چاہیے، کیوں کہ اس سے انھیں بھی تحریک ہوتی ہے۔ لیکن بزرگوں کی اور بات ہے۔ انھیں کسی خارجی تحریک کی ضرورت نہیں ہوتی۔

مولانا راس پکڑے بلبن کو بزرگوار سے ملوانے لے گئے۔ ان کا آدھے سے زیادہ سامان ان کے اپنے کمرے میں منتقل ہو چکا تھا۔ ہارمونیم رحیم بخش کے لال کھیس میں لپیٹا جا رہا تھا۔ بلبن کا فوٹو ریس جیتنے کے بعد اخبار میں چھپا تھا، ابھی دیوار سے اتارنا باقی تھا۔ وہ رات سے بہت مغموم تھے۔ خلافِ معمول عشاء کے بعد دو مرتبہ حقّہ پیا۔ اب وہ صبح و شام کیسے کاٹیں گے ؟ اس وقت جب بلبن ان کے پاس لایا گیا تو وہ سرجھکائے دیر تک اپنے ایال میں کنگھی کراتا رہا۔ آج انھوں نے اس کے پاؤں پر دَم نہیں کیا۔ جب وہ اس کی پیشانی پر اللہ لکھنے لگے تو ان کی انگلی چابک کے اُپڑے ہوئے لمبے نشان پر پڑی اور وہ چونک پڑے۔ جہاں تک یہ درد کی لکیر جاتی تھی ہاں تک خود کو زخماتے رہے۔ پھر دکھ بھرے لہجے میں کہنے لگے ” کس نے مارا ہے ہمارے بیٹے کو؟” مولانا اسے لے جانے لگے تو اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے ” اچھا ۔ بلبن بیٹے ! ہمارا تو چل چلاؤ ہے۔ خدا جانے واپسی پر ہمیں پاؤ گے بھی یا نہیں۔ جاؤ، اللہ کی امان میں دیا۔ "

بلبن کی جدائی کے خیال سے بزرگوار ڈھے گئے۔ اب وہ اپنے دل کی بات کس سے کہیں گے ؟ کس کی شفا کے لیے دعا کو بے اختیار ہاتھ اٹھیں گے ؟ انھوں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ قدرت کو اتنا سا آسرا، ایک جانور کی دُسراتھ تک منظور نہ ہو گی۔ جو خود کبھی تنہائی کے جان کو گھلا دینے والے کرب سے نہ گزرا ہو وہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ اکیلا آدمی کیسی کیسی دسراتھ کا سہارا لیتا ہے۔ بے مثل انشائیوں کے مصنف چارلس لیمب نے ایک عمر کرب و تنہائی میں گزاری۔ پیر 12 مئی 1800 کو وہ کولرج کو اپنے خط میں لکھتا ہے ” گزشتہ جمعے کو ہیٹی ( ضعیف ملازمہ ) آٹھ دن کی علالت کے بعد چل بسی۔ اس کی میّت اس وقت کمرے میں میرے سامنے رکھی ہے۔ میری (چارلس لیمب کی بہن جسے دیوانگی کے دَورے پڑتے تھے ) اس صدمے کی تاب نہ لا سکی اور اس پر شدید دَورہ پڑا۔ لہٰذا اسے دوسری جگہ منتقل کرنا پڑا۔ اب اس گھر میں، میں تنہا ہوں اور دسراہٹ کے لیے ہیٹی کی نعش کے سوا اور کوئی نہیں۔ کل میں اسے بھی دفن کر دوں گا تو بالکل ہی تنہا رہ جاؤں گا۔ پھر اس بلی کے اور کوئی نہ ہو گا جو مجھے یاد دلائے کہ ان آنکھوں نے کبھی اس گھر کو بھرا پُرا دیکھا تھا۔ کبھی اس میں بھی مجھ جیسے ذی روح رہتے تھے۔ "

مولانا دن بھر غیر حاضر رہے۔ دوسرے دن وہ بند بند اور کھنچے کھنچے سے نظر آئے۔ کئی سوال ہونٹوں پر لرز لرز کر رہ گئے۔ کسی کو ان سے پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی کہ بلبن کے گولی کہاں لگی۔ کہتے ہیں جانوروں کو موت کا premonition (پیش آگاہی ) ہو جاتا ہے۔ تو کیا جب وہ ویران پہاڑیوں میں لے جایا جا رہا تھا تو اس نے بھاگنے کی کوشش کی؟ اور کبھی آ کری لمحے میں معجزہ بھی تو ہو جایا کرتا ہے۔ وہ بہت جفا کش، سخت جان اور حوصلے والا تھا۔ دل نہیں مانتا کہ اس نے آسانی سے موت سے ہار مانی ہو گی:

Do not go gentle into that good night.

Rage, rage against the dying of the light

مشتاق احمد یوسفی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل