اردو تحاریراردو ناولعمیرہ احمد

پسند کی شادی

عمیرہ احمد کے ناول پیرِ کامل سے اقتباس

گہری نیند کے عالم میں سالار نے کھٹکے کی آواز سنی تھی پھر وہ آواز دستک کی آواز میں تبدیل ہو گئی تھی۔رُک رُک کر۔۔۔۔۔مگر مسلسل کی جانے والی دستک کی آواز ۔۔۔۔۔وہ اوندھے منہ پیٹ کے بل سو رہا تھا۔دستک کی اس آواز نے اس کی نیند توڑ دی تھی۔
وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا اور بیڈ پر بیٹھے بیٹھے اس نے تاریکی میں اپنے چاروں طرف دیکھنے کی کوشش کی۔خوف کی ایک لہر اس کے اندر سرایت کر گئی۔وہ آواز کھڑکیوں کی طرف سے آ رہی تھی۔یوں جیسے کوئی ان کھڑکیوں کو بجا رہا تھا مگر بہت آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔یا پھر شاید کوئی ان کھڑکیوں کو ٹٹولتے ہوئے کھولنے کی کوشش کر رہا تھا۔سالار کے ذہن میں پہلا خیال کسی چور کا آیا تھا ، وہ سلائیڈنگ ونڈوز تھیں اور بدقسمتی سے وہاں کوئی گرل نہیں تھی۔اس کی ضرورت اس لیے محسوس نہیں کی گئی تھی کیونکہ وہ امپورٹڈ گلاس کی بنی ہوئی تھیں جنھیں آسانی سے توڑا یا کاٹا نہیں جا سکتا تھا اور انہیں صرف اندر سے کھولا جا سکتا تھا۔گھر کے چاروں طرف موجود لان میں ویسے بھی رات کو کتے کھلے ہوتے تھے اور ان کے ساتھ تین گارڈز بھی ہوتے تھے۔۔۔۔۔مگر ان تمام حفاظتی اقدامات کے باوجود اس وقت اس کھڑکی کے دوسری طرف موجود چھوٹے سے برآمدے میں کوئی موجود تھا جو اس کھڑکی کو کھولنے کی کوشش میں مصروف تھا۔
اپنے بیڈ سے دبے قدموں اٹھ کر وہ تاریکی میں ہی کھڑکی کی طرف آیا جس طرف سے آواز آ رہی تھی۔وہ اس کے بالکل مخالف سمت گیا اور بہت احتیاط کے ساتھ اس نے پردے کے ایک سرے کو تھوڑا سا اٹھاتے ہوئے کھڑکی سے باہر جھانکا۔لان میں لگی روشنیوں میں اس نے کھڑکی کے سامنے جسے کھڑا دیکھا تھا اس نے اسے ہکا بکا کر دیا تھا۔
"یہ پاگل ہے۔”بےاختیار اس کے منہ سے نکلا۔اس وقت اگر لان میں پھرتے چار غیر ملکی نسل کے کتے اسے دیکھ لیتے تو سالار یا کسی بھی دوسرے کے پہنچنے سے پہلے وہ اسے چیر پھاڑ چکے ہوتے اور اگر کہیں گارڈز میں سے کسی نے اسے وہاں دیکھا ہوتا تو بھی وہ تفتیش یا تحقیق پر وقت ضائع کرنے سے پہلے اسے شوٹ کر چکے ہوتے مگر وہ اس وقت بالکل محفوظ وہاں کھڑی تھی اور یقیناً اپنے گھر کی دیوار پھلانگ کر یہاں آئی تھی۔
ہونٹ بھینچے اس نے کمرے کی لائٹ آن کی۔لائٹ آن ہوتے ہی دستک کی آواز رُک گئی۔کتے کے بھونکنے کی آواز آ رہی تھی۔پردے کھینچتے ہی اس نے سلائیڈنگ ونڈو کو ہٹا دیا۔
"اندر آؤ جلدی۔”سالار نے تیزی سے امامہ سے کہا۔وہ کچھ نروس ہو کر کھڑکی سے اندر آ گئی۔اس کے ہاتھ میں ایک بیگ بھی تھا۔
پردے برابر کرتے ہی سالار نے مڑکر اس سے کہا۔
"فارگاڈسیک امامہ ! تم پاگل ہو۔”امامہ نے جواب میں کچھ نہیں کہا۔وہ اپنا بیگ اپنے پیروں میں رکھ رہی تھی۔
"تم دیوار کراس کر کے آئی ہو؟”
"ہاں۔”
"تمہیں گارڈز یا کتوں میں سے کوئی دیکھ لیتا تو۔۔۔۔۔اس وقت باہر تمہاری لاش پڑی ہوتی۔”
"میں نے تمہیں بہت دفعہ رنگ کیا ، تمہارا موبائل آف تھا ، کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا میرے پاس۔”
سالار نے پہلی بار اس کا چہرہ غور سے دیکھا۔اس کی آنکھیں سوجی ہوئی اور چہرہ ستا ہوا تھا۔وہ بڑی سی سفید چادر لپیٹے ہوئے تھے مگر اس چادر اور اس کے کپڑوں پر جگہ جگہ مٹی کے داغ تھے۔
"تم مجھے لاہور چھوڑ کر آ سکتے ہو؟”وہ کمرے کے وسط میں کھڑی اس سے پوچھ رہی تھی۔
"اس وقت؟” اس نے حیرانی سے کہا۔
"ہاں ، ابھی اسی وقت۔میرے پاس وقت نہیں ہے۔”
سالار نے تعجب کے عالم میں وال کلاک پر ایک نظر ڈالی۔”وکیل نے تمہارے گھر فون کیا تھا ، تمہارا مسئلہ حل نہیں ہوا؟”
امامہ نے نفی میں سر ہلایا۔”نہیں ، وہ لوگ مجھے صبح کہیں بھجوا رہے ہیں۔میں تمہیں اسی لیے سارا دن فون کرتی رہی مگر تم نے موبائل آن نہیں کیا۔میں چاہتی تھی تم وکیل سے کہو کہ وہ بیلف کے ساتھ آ کر مجھے وہاں سے آزاد کرائے مگر تم سے کانٹیکٹ نہیں ہوا اور کل اگر تم سے کانٹیکٹ ہوتا بھی تو کچھ نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ وہ لوگ اس سے پہلے ہی مجھے کہیں شفٹ کر دیتے اور یہ ضروری تو نہیں کہ مجھے یہ پتا ہوتا کہ وہ مجھے کہاں شفٹ کر رہے ہیں۔”
سالار نے جماہی لی۔اسے نیند آ رہی تھی۔”تم بیٹھ جاؤ۔”اس نے امامہ سے کہا۔وہ ابھی تک کھڑی تھی۔
"تم اگر مجھے لاہور نہیں پہنچا سکتے تو کم از کم بس اسٹینڈ تک پہنچا دو ، میں وہاں سے خود لاہور چلی جاؤں گی۔”اس نے سالار کو نیند میں دیکھ کر کہا۔”میرا اندازہ ہے کہ اس وقت تو کوئی گاڑی لاہور نہیں جا رہی ہو گی۔”
"میں تمہیں صبح۔۔۔۔۔”امامہ نے اس کی بات کاٹ دی۔
"نہیں ، صبح نہیں۔میں صبح تک یہاں سے نکل جانا چاہتی ہوں۔اگر لاہور کی گاڑی نہیں ملی تو میں کسی اور شہر کی گاڑی میں بیٹھ جاؤں گی پھر وہاں سے لاہور چلی جاؤں گی۔”
"تم بیٹھو تو سہی۔”سالار نے اس سے ایک بار پھر کہا۔وہ ایک لمحہ کے لیے ہچکچائی پھر صوفہ پر جا کر بیٹھ گئی۔سالار خود ہی اپنے بیڈ کی پائینتی پر بیٹھ گیا۔
"لاہور تم کہاں جاؤ گی؟”اس نے پوچھا۔
"جلال کے پاس۔”
"مگر وہ تو تم سے شادی سے انکار کر چکا ہے۔”
"میں پھر بھی اس کے پاس جاؤں گی ، اسے مجھ سے محبت ہے۔وہ مجھ کو اس طرح بےیارومددگار نہیں چھوڑ سکتا۔میں اس سے اور اس کے گھر والوں سے ریکویسٹ کروں گی۔میں جانتی ہوں وہ میری بات مان لیں گے ، وہ میری صورت ِحال کو سمجھ لیں گے۔”
"مگر تم تو مجھ سے شادی کر چکی ہو۔”امامہ چونک کر سالار کا چہرہ دیکھنے لگی۔
"پیپر میرج ہے وہ۔۔۔۔۔ میں نے تمہیں بتایا تھا کہ میں مجبوراً نکاح کر رہی ہوں ، شادی تو نہیں ہے یہ۔”
وہ اسے پلکیں جھپکائے بغیر گہری نظروں سے دیکھتا رہا۔”تم جانتی ہو ، میں آج لاہور گیا تھا جلال کے پاس۔”
امامہ کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا۔”تم نے اسے میری پریشانی اور صورت ِحال کے بارے میں بتایا؟”
"نہیں۔”سالار نے نفی میں سر ہلایا۔
"کیوں؟”
"جلال نے شادی کر لی ہے۔”سالار نے لاپرواہی سے کندھے جھٹکتے ہوئے کہا۔وہ سانس لینا بھول گئی۔پلکیں جھپکائے بغیر وہ کسی بت کی طرح اسے دیکھنے لگی۔
"تین دن ہو گئے ہیں اس کی شادی کو ، کل پرسوں تک وہ سیر و تفریح کے لئے نادرن ایریاز کی طرف جا رہا ہے۔اس نے میری کوئی بات سننے سے پہلے ہی مجھے یہ سب کچھ بتانا شروع کر دیا تھا۔شاید وہ چاہتا تھا کہ میں اب تمہارے بارے میں بات نہ کروں۔ اس کی بیوی بھی ڈاکٹر ہے۔”سالار بات کرتے کرتے رُک گیا۔”میرا خیال ہے کہ اُس کے گھر والوں نے تمہارے مسئلے کی وجہ سے ہی اس کی اس طرح اچانک شادی کی ہے۔”وہ یکے بعد دیگرے جھوٹ پر جھوٹ بولتا جا رہا تھا۔
"مجھے یقین نہیں آ رہا۔”جیسے کسی خلا سے آواز آئی تھی۔
"ہاں ، مجھے بھی یقین نہیں آیا تھا اور مجھے توقع تھی کہ تمہیں بھی یقین نہیں آئے گا مگر یہ سچ ہے۔تم فون کر کے اس سے بات کر سکتی ہو اس بارے میں۔”سالار نے کندھے جھٹکتے ہوئے لاپروائی سے کہا۔
امامہ کو لگا وہ پہلی بار صحیح معنوں میں گھپ اندھیرے میں آ کھڑی ہوئی ہے۔روشنی کی وہ کرن جس کے تعاقب میں وہ اتنا عرصہ چلتی آئی ہے ، ایک دم گل ہو گئی ہے۔راستہ تو ایک طرف ، وہ اپنے وجود کو بھی نہیں دیکھ پا رہی تھی۔
"اب تم خود سوچ لو کہ لاہور جا کر تم کیا کرو گی۔وہ تو اب تم سے شادی کر سکتا ہے ، نہ اس کے گھر والے تمہیں پناہ دے سکتے ہیں۔بہتر ہے تم واپس چلی جاؤ ، ابھی تمہارے گھر والوں کو پتا نہیں چلا ہو گا۔”
امامہ نے کہیں بہت دور سے سالار کی آواز آتی سنی۔وہ کچھ نا سمجھنے والے انداز میں اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
"مجھے لاہور چھوڑ آؤ۔”وہ بڑبڑائی۔
"جلال کے پاس جاؤ گی؟”
"نہیں ، اس کے پاس نہیں جاؤں گی مگر میں اپنے گھر نہیں رہ سکتی۔”
وہ یک دم صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔سالار نے ایک سانس لے کر اُلجھن بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
"یا پھر مجھے گیٹ تک چھوڑ آؤ ، میں خود چلی جاتی ہوں۔تم چوکیدار سے کہو وہ مجھے باہر جانے دے۔”اس نے بیگ اٹھا لیا۔
"تمہیں اندازہ ہے کہ یہاں سے بس اسٹینڈ کتنی دور ہے۔اتنی دھند اور سردی میں تم پیدل وہاں تک جا سکو گی۔”
"جب اور کچھ نہیں رہا میرے پاس تو دھند اور سردی سے مجھے کیا ہو گا۔”سالار نے اسے گیلی آنکھوں کے ساتھ مسکراتے ہوئے دیکھا تھا۔وہ اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنی آنکھوں کو رگڑ رہی تھی۔سالار اس کے ساتھ کہیں جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔لاہور تو بہت دور کی بات تھی ، اسے ابھی بھی نیند آ رہی تھی اور وہ سامنے کھڑی لڑکی کو ناپسند کرتا تھا۔
"ٹھہرو ، میں چلتا ہوں تمہارے ساتھ۔”وہ نہیں جانتا اس کی زبان سے جملہ کیوں اور کیسے نکلا۔
امامہ نے اسے ڈریسنگ روم کی طرف جاتے دیکھا۔وہ کچھ دیر بعد باہر نکلا تو شب خوابی کے لباس کے بجائے ایک جینز اور سویٹر میں ملبوس تھا۔اپنے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل سے اس نے کی چین اور گھڑی کے ساتھ ساتھ اپنا والٹ بھی اٹھایا۔امامہ کے قریب آ کر اس نے بیگ لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
"نہیں ، میں خود اٹھا لوں گی۔”
"اٹھا لیتا ہوں۔”اس نے بیگ لے کر کندھے پر ڈال دیا۔وہ دونوں آگے پیچھے چلتے ہوئے پورچ میں آ گئے۔سالار نے اس کے لیے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا تھا اور بیگ کو پچھلی سیٹ پر رکھ دیا۔
گاڑی گیٹ کی طرف آتے دیکھ کر چوکیدار نے خود ہی گیٹ کھول دیا تھا مگر اس کے قریب سے گزرتے ہوئے سالار نے اس کی آنکھوں میں اس حیرت کو دیکھ لیا تھا جو اس کی نظروں میں رات کے اس وقت فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ہوئی امامہ کو دیکھ کر آئی تھی۔یقیناً وہ حیران ہوا ہو گا کہ وہ لڑکی اس وقت اس گھر میں کہاں سے آئی تھی۔
"تم مجھے بس اسٹینڈ پر چھوڑو گے؟”مین روڈ پر آتے ہی امامہ نے اس سے پوچھا۔سالار نے ایک نظر گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
"نہیں ، میں تمہیں لاہور لے جا رہا ہوں۔”اس کی نظریں سڑک پر مرکوز تھیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

گاڑی اس بڑی سڑک پر دوڑ رہی تھی جو تقریباً سنسان تھی۔ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا۔
اسٹئیرنگ پر دایاں ہاتھ رکھے اس نے بائیں ہاتھ کو منہ کے سامنے رکھ کر جماہی روکی اور نیند کے غلبے کو بھگانے کی کوشش کی۔اس کے برابر کی سیٹ پر بیٹھی ہوئی امامہ بےآواز رو رہی تھی اور سالار اس بات سے باخبر تھا۔وہ وقتاً فوقتاً اپنے ہاتھ میں پکڑے رومال سے اپنی آنکھیں پونچھتی اور اپنی ناک رگڑ لیتی۔۔۔۔۔اور پھر سامنے ونڈ اسکرین سے باہر سڑک پر نظریں جما کر رونا شروع کر دیتی۔
سالار وقفے وقفے سے اس پر اچٹتی نظر ڈالتا رہا۔اس نے امامہ کو کوئی تسلی دینے یا چپ کروانے کی کوشش نہیں کی تھی۔اس کا خیال تھا کہ وہ خود ہی کچھ دیر آنسو بہا کر خاموش ہو جائے گی ، مگر جب آدھ گھنٹہ گزر جانے کے بعد بھی وہ اسی رفتار سے روتی رہی تو وہ کچھ اُکتانے لگا۔
"اگر تمہیں گھر سے اس طرح بھاگ آنے پر اتنا پچھتاوا ہونا تھا تو پھر تمہیں گھر سے بھاگنا ہی نہیں چاہئیے تھا۔”
سالار نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا۔امامہ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
"ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ، ابھی تو شاید تمہارے گھر میں کسی کو تمہاری غیر موجودگی کا پتا بھی نہیں چلا ہو گا۔”اس نے کچھ دیر اس کے جواب کا انتظار کے بعد اسے مشورہ دیا۔
"مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔”اس بار اس نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد قدرے بھرائی ہوئی مگر مستحکم آواز میں کہا۔
"”تو پھر تم رو کیوں رہی ہو؟”سالار نے فوراً پوچھا۔
"تمہیں بتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔”وہ ایک بار پھر آنکھیں پونچھتے ہوئے بولی۔سالار نے گردن موڑ کر اسے غور سے دیکھا اور پھر گردن سیدھی کر لی۔
"لاہور میں کس کے پاس جاؤ گی؟”
"پتا نہیں۔”امامہ کے جواب پر سالار نے قدرے حیرانی سے اسے دیکھا۔
"کیا مطلب۔۔۔۔۔تمہیں پتا نہیں ہے کہ تم کہاں جا رہی ہو؟”
"فی الحال تو نہیں۔”
"تو پھر آخر تم لاہور جا ہی کیوں رہی ہو؟”
"تو پھر اور کہاں جاؤں؟”
"تم اسلام آباد میں ہی رہ سکتی تھیں۔”
"کس کے پاس؟”
"لاہور میں بھی تو کوئی نہیں ہے جس کے پاس تم رہ سکو۔۔۔۔۔اور وہ بھی مستقل۔۔۔۔۔جلال کے علاوہ۔”سالار نے آخری تین لفظوں پر زور دیتے ہوئے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
"اس کے پاس جا رہی ہو تم۔”کچھ دیر بعد اس نے قدرے چھبتے ہوئے انداز میں کہا۔
"نہیں ، جلال میری زندگی سے نکل چکا ہے”سالار اندازہ نہیں کر سکا کہ اس کی آواز میں مایوسی زیادہ تھی یا افسردگی۔”اس کے پاس کیسے جا سکتی ہوں میں۔”
"تو پھر اور کہاں جاؤ گی؟”سالار نے ایک بار پھر تجسس کے عالم میں پوچھا۔
"یہ تو میں لاہور جانے پر ہی طے کروں گی کہ مجھے کہاں جانا ہے ، کس کے پاس جانا ہے۔”امامہ نے کہا۔
سالار نے کچھ بےیقینی کے عالم میں اسے دیکھا۔کیا واقعی وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے کہاں جانا تھا یا پھر وہ اسے بتانا نہیں چاہتی تھی۔گاڑی میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
"تمہارا فیانسی۔۔۔۔۔کیا نام ہے اس کا۔۔۔۔۔ہاں اسجد۔۔۔۔۔کافی اچھا ، ہینڈسم آدمی ہے۔”ایک بار پھر سالار نے ہی اس خاموشی کو توڑا۔”اور یہ جو دوسرا آدمی تھا۔۔۔۔۔جلال۔۔۔۔۔اس کے مقابلے میں تو کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔کچھ زیادتی نہیں کر دی تم نے اسجد کے ساتھ؟”
امامہ نے اس کے سوال کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔وہ صرف سامنے سڑک کو دیکھتی رہی۔سالار کچھ دیر گردن موڑ کر اس کے جواب کے انتظار میں اس کا چہرہ دیکھتا رہا مگر پھر اسے احساس ہو گیا کہ وہ جواب دینا نہیں چاہتی۔
"میں تمہیں سمجھ نہیں پایا۔۔۔۔۔جو کچھ تم کر رہی ہو ، اسے بھی نہیں۔۔۔۔۔تمہاری حرکتیں بہت۔۔۔۔۔بہت عجیب ہیں۔۔۔۔۔اور تم اپنی حرکتوں سے زیادہ عجیب ہو۔”سالار نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا۔
اس بار امامہ نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
"کیا تمہاری حرکتوں سے زیادہ عجیب ہیں میری حرکتیں۔۔۔۔۔اور کیا میں تم سے زیادہ عجیب ہوں۔۔۔۔۔”بڑے دھیمے مگر مستحکم لہجے میں پوچھے گئے اس سوال نے چند لمحوں کے لیے سالار کو لاجواب کر دیا تھا۔
"میری کون سی حرکتیں عجیب ہیں۔۔۔۔۔اور میں کس طرح عجیب ہوں؟”چند لمحے خاموش رہنے کے بعد سالار نے کہا۔
"تم جانتے ہو ، تمہاری کون سی حرکتیں عجیب ہیں۔”امامہ نے واپس ونڈ اسکرین کی طرف گردن موڑتے ہوئے کہا۔
"یقیناً میری خود کشی کی ہی بات کر رہی ہو تم۔”سالار نے خود ہی اپنے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا۔”حالانکہ میں خود کشی نہیں کرنا چاہتا ، نہ ہی میں خود کشی کی کوشش کر رہا ہوں۔میں تو صرف ایک تجربہ کرنا چاہتا تھا۔”
"کیسا تجربہ۔”
"میں ہمیشہ لوگوں سے ایک سوال پوچھتا ہوں ، مگر کوئی بھی مجھے اس کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکا ، اس لئے میں اس سوال کا جواب خود ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہوں۔”وہ بولتا رہا۔
"کیا پوچھتے ہو تم لوگوں سے؟”
"بہت آسان سا سوال ہے مگر ہر ایک کو مشکل لگتا ہے۔”What is next to ecstasy?” اس نے گردن موڑ کر امامہ سے پوچھا۔
وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر اس نے مدھم آواز میں کہا۔”Pain”
“And what is next to pain?” سالار نے بلاتوقف ایک اور سوال کیا۔
“Nothingness”
“What is next to nothingness?” سالار نے اسی انداز میں ایک اور سوال کیا۔
“Hell” امامہ نے کہا۔
“And what is next to hell?” اس بار امامہ خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
“What is next to hell?” سالار نے پھر اپنا سوال دُہرایا۔
"تمہیں خوف نہیں آتا۔”سالار نے امامہ کو قدرے عجیب سے انداز میں پوچھتے سنا۔
"کس چیز سے۔”سالار حیران ہوا۔
"Hell سے۔۔۔۔۔اس جگہ سے جس کے آگے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔۔سب کچھ اس کے پیچھے ہی رہ جاتا ہے۔۔۔۔۔معتوب اور مغضوب ہو جانے کے بعد باقی بچتا کیا ہے جسے جاننے کا تمہیں تجسس ہے۔”امامہ نے قدرے افسوس سے کہا۔
"میں تمہاری بات سمجھ نہیں سکا۔۔۔۔۔سب کچھ میرے سر کے اوپر سے گزرا ہے۔”سالار نے جیسے اعلان کرنے والے انداز میں کہا۔
"فکر مت کرو۔۔۔۔۔آ جائے گی۔۔۔۔۔ایک وقت آئے گا۔۔۔۔۔جب تمہیں ہر چیز کی سمجھ آ جائے گی پھر تمہاری ہنسی ختم ہو جائے گی۔۔۔۔۔تب تمہیں خوف آنے لگے گا۔۔۔۔۔موت سے بھی اور دوزخ سے بھی۔۔۔۔۔اللہ تمہیں سب کچھ دکھا اور بتا دے گا۔۔۔۔۔پھر تم کسی سے یہ کبھی نہیں پوچھا کرو گے۔۔۔۔۔”What is next to ecstasy?” امامہ نے بہت رسانیت سے کہا۔
"یہ تمہاری پیش گوئی ہے؟”سالار نے اس کی بات کے جواب میں کچھ چھبتے ہوئے لہجے میں کہا۔
"نہیں۔”امامہ نے اسی انداز میں کہا۔
"تجربہ؟”سالار نے گردن سیدھی کر لی۔
"ہاں ، یہ تمہارا تجربہ ہی ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔کی تو تم نے خود کشی ہی ہے۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔۔میں نے اپنے طریقے سے یہ کوشش کی تھی۔۔۔۔۔تم نے اپنے طریقے سے کی ہے۔”سالار نے سرد مہری سے کہا۔
امامہ کی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسو آ گئے۔گردن موڑ کر اس نے سالار کو دیکھا۔
"میں نے کوئی خود کشی نہیں کی ہے۔”
"کسی لڑکے کے لئے گھر سے بھاگنا ایک لڑکی کے لیے خود کشی ہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔وہ بھی اس صورت میں جب وہ لڑکا شادی پر تیار ہی نہ ہو۔۔۔۔۔دیکھو ، میں خود ایک لڑکا ہوں۔۔۔۔۔بہت براڈ مائنڈڈ اور لبرل ہوں اور میں بالکل برا نہیں سمجھتا اگر ایک لڑکی گھر سے بھاگ کر کسی لڑکے کے ساتھ کورٹ میرج یا شادی کر لے۔۔۔۔۔مگر وہ لڑکا اس کا ساتھ تو دے ، ایک ایسے لڑکے کے لئے گھر سے بھاگ جانا جو شادی کر چکا ہو۔۔۔۔۔چچ چچ ۔۔۔۔۔میری سمجھ میں نہیں آتا اور پھر تمہاری عمر میں بھاگنا ۔۔۔۔۔بالکل حماقت ہے۔”
"میں کسی لڑکے کے لیے نہیں بھاگی ہوں۔”
"جلال انصر ! ” سالار نے اس کی بات کاٹ کر اسے یاد دلایا۔
"میں اس کے لیے نہیں بھاگی ہوں۔”وہ بےاختیار بلند آواز میں چلائی۔سالار کا پاؤں بےاختیار بریک پر جا پڑا۔اس نے حیرانی سے امامہ کو دیکھا۔
"تو مجھ پر کیوں چلا رہی ہو ، مجھ پر چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔”سالار نے ناراضی سے کہا۔وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
"یہ جو تمہاری مذہب والی تھیوری یا فلاسفی یا پوائنٹ یا جو بھی ہے I don’t get it کیا فرق پڑتا ہے۔اگر کوئی کسی اور پیغمبر کو ماننا شروع ہو گیا۔۔۔۔۔زندگی ان فضول بحثوں کے علاوہ بھی کچھ ہے۔۔۔۔۔مذہب ، عقیدے یا فرقے پر لڑنا۔۔۔۔۔What rubbish ۔ ”
امامہ نے گردن موڑ کر ناراضی کے عالم میں اسے دیکھا۔”جو چیزیں تمہارے لیے فضول ہیں ، ضروری نہیں وہ ہر ایک کے لیے فضول ہوں۔میں اپنے مذہب پر قائم رہنا نہیں چاہتی اور نہ ہی اس مذہب کے کسی شخص سےشادی کرنا چاہتی ہوں۔تو یہ میرا حق ہے کہ میں ایسا کروں ، میں تم سے ایسی چیزوں کے بارے میں بحث نہیں کرنا چاہتی جسے تم نہیں سمجھتے۔۔۔۔۔اس لیے تم ان معاملات کے بارے میں اس طرح کے تبصرے مت کرو۔”
"مجھے حق ہے کہ میں جو چاہے کہوں Freedom of expression (اظہار کی آزادی) "سالار نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔امامہ نے جواب دینے کی بجائے خاموشی اختیار کی۔وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔سالار بھی خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرنے لگا۔
"یہ جلال انصر۔۔۔۔۔میں اس کی بات کر رہا تھا۔”وہ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ایک بار پھر اپنے اسی موضوع کی طرف آ گیا۔
"اس میں کیا خاص بات ہے؟”اس نے گردن موڑ کر امامہ کو دیکھا۔وہ اب ونڈاسکرین سے باہر سڑک کو دیکھ رہی تھی۔
"جلال انصر اور تمہارا کوئی جوڑ نہیں ہے۔۔۔۔۔وہ بالکل بھی ہینڈسم نہیں ہے۔تم ایک خوبصورت لڑکی ہو ، میں حیران ہوں تم اس میں کیسے دلچسپی لینے لگیں۔۔۔۔۔کیا وہ بہت زیادہ۔۔۔۔۔intelligent ہے؟”اس نے امامہ سے پوچھا۔
امامہ نے حیرانی سے اسے دیکھا۔”intelligent ۔۔۔۔۔کیا مطلب؟”
"دیکھو یا تو کسی کی شکل اچھی لگتی ہے۔۔۔۔۔میں نہیں سمجھتا تمہیں جلال کی شکل اچھی لگی ہو گی یا پھر کسی کا فیملی بیک گراؤنڈ ۔۔۔۔۔پیسہ وغیرہ کسی میں دلچسپی کا باعث بنتا ہے۔۔۔۔۔اب جلال کا فیملی بیک گراؤنڈ یا مالی حالت کے بارے میں ، میں نہیں جانتا مگر خود تمہارا فیملی بیک گراؤنڈ جتنا ساؤنڈ ہے ، یہ بھی تمہارے لیے اس میں دلچسپی کا باعث نہیں بن سکتا۔۔۔۔۔واحد بچ جانے والی وجہ کسی کی ذہانت ، قابلیت وغیرہ ہے۔۔۔۔۔اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ کیا وہ بہت intelligent ہے۔۔۔۔۔کیا بہت آؤٹ اسٹینڈنگ اور brilliant ہے؟”
"نہیں۔”امامہ نے مدھم آواز میں کہا۔
سالار کو مایوسی ہوئی۔”تو پھر۔۔۔۔۔تم اس کی طرف متوجہ کیسے ہوئیں۔”امامہ ونڈ اسکرین سے بار ہیڈ لائٹس کی روشنی میں نظر آنے والی سڑک دیکھتی رہی۔سالار نے اپنا سوال دُہرایا۔صرف کندھے اچکاتے ہوئے وہ دوبارہ ڈرائیونگ پر توجہ دینے لگا۔گاڑی میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
"وہ نعت بہت اچھی پڑھتا ہے۔”تقریباً پانچ منٹ بعد خاموشی ٹوٹی تھی۔ونڈاسکرین سے باہر دیکھتے ہوئے مدھم آواز میں امامہ یوں بڑبڑائی تھی جیسے خود کلامی کر رہی ہو۔سالار نے اس کا جملہ سن لیا تھا مگر اسے وہ ناقابلِ یقین لگا۔
"کیا؟”اس نے جیسے تصدیق چاہی۔
"جلال نعت بہت اچھی پڑھتا ہے۔”اسی طرح ونڈ اسکرین سے باہر جھانکتے ہوئے کہا مگر اس بار اس کی آواز کچھ بلند تھی۔
"بس آواز کی وجہ سے۔۔۔۔۔سنگر ہے؟”سالار نے تبصرہ کیا۔
امامہ نے نفی میں سر ہلایا۔
"پھر؟”
"بس وہ نعت ہی پڑھتا ہے۔۔۔۔۔اور بہت خوبصورت پڑھتا ہے۔”
سالار ہنسا۔تم صرف اس کے نعت پڑھنے کی وجہ سے اس سے محبت میں گرفتار ہوئیں۔میں کم از کم اس پر یقین نہیں کر سکتا۔”
امامہ نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا۔”تو مت کرو۔۔۔۔۔تمہارے یقین کی کس کو ضرورت ہے۔”اس کی آواز میں سرد مہری تھی۔گاڑی میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
"فرض کرو یہ مان لیا جائے کہ تم واقعی اس کے نعت پڑھنے سے کچھ متاثر ہو کر اتنا آگے بڑھ گئیں۔۔۔۔۔تو یہ تو کوئی زیادہ پریکٹیکل بات نہیں ہے۔۔۔۔۔باربرا کارٹ لینڈ کے ناول والا رومانس ہی ہو گیا یہ تو۔۔۔۔۔اور تم ایک میڈیکل کی اسٹوڈنٹ ہو کر اتنا اممیچیور ذہن رکھتی ہو۔”سالار نے بےرحمی سے تبصرہ کیا۔
امامہ نے ایک بار پھر گردن موڑ کر اسے دیکھا۔”میں بہت میچیور ہوں۔۔۔۔۔بہت زیادہ۔۔۔۔۔پچھلے دو چار سالوں میں مجھ سے زیادہ پریکٹیکل ہو کر کسی نے چیزوں کو نہیں دیکھا ہو گا۔”
"میری رائے محفوظ ہے۔۔۔۔۔ہو سکتا ہے تمہارا پریکٹیکل ہونا میرے پریکٹیکل ہونے سے مختلف ہو۔اینی وے میں جلال کی بات کر رہا تھا۔۔۔۔۔وہ جو تم نعت وغیرہ کا ذکر کر رہی تھیں اس کی بات۔”
"بعض چیزوں پر اپنا اختیار نہیں ہوتا۔۔۔۔۔میرا بھی نہیں ہے۔”اس بار امامہ کی آواز میں شکستگی تھی۔
"میں پھر تم سے اتفاق نہیں کرتا۔ہر چیز اپنے اختیار میں ہوتی ہے۔۔۔۔۔کم از کم اپنی فیلنگز ، ایموشنز اور ایکشن پر انسان کو کنٹرول ہوتا ہے۔۔۔۔۔ہمیں پتا ہوتا ہے کہ ہم کس شخص کے لیے کس طرح کی فیلنگز ڈویلپ کر رہے ہیں۔۔۔۔۔کیوں کر رہے ہیں ، اس کا بھی پتا ہوتا ہے۔۔۔۔۔اور جب تک ہم باقاعدہ ہوش و حواس میں رہتے ہوئے ان فیلنگز کو ڈویلپ نہیں ہونے دیتے۔۔۔۔۔وہ نہیں ہوتیں۔۔۔۔۔اس لئے یہ نہیں مان سکتا کہ ایسی چیزوں پر اپنا کنٹرول ہی نہ رہے۔”
اس نے بات کرتے ہوئے دوسری بار امامہ کو دیکھا اور اسے احساس ہوا کہ وہ اس کی بات نہیں سن رہی تھی۔وہ پلکیں جھپکائے بغیر ونڈاسکرین کو دیکھ رہی تھی یا شاید ونڈاسکرین سے باہر دیکھ رہی تھی۔اس کی آنکھیں متورم تھیں اور اس وقت بھی ان میں نمی نظر آ رہی تھی۔۔۔۔۔وہ ذہنی طور پر کہیں اور موجود تھی۔۔۔۔۔کہاں یہ وہ نہیں جان سکتا تھا۔اسے وہ ایک بار پھر ابنارمل لگی۔
بہت دیر تک خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرتے رہنے کے بعد سالار نے قدرے اکتا کر ایک بار پھر اسے مخاطب کیا۔
"نعت پڑھنے کے علاوہ اس میں اور کون سی کوالٹی ہے؟”اس کی آواز بلند تھی۔امامہ بےاختیار چونک گئی۔
"نعت پڑھنے کے علاوہ اس میں اور کیا کوالٹی ہے؟”سالار نے اپنا سوال دُہرایا۔
"ہر وہ کوالٹی جو ایک اچھے انسان۔۔۔۔۔اچھے مسلمان میں ہوتی ہے۔”امامہ نے کہا۔
"مثلاً ۔” سالار نے بھوئیں اچکاتے ہوئے کہا۔
"اور اگر نہ بھی ہوتیں تو بھی وہ شخص حضرے محمد ﷺ سے اتنی محبت کرتا ہے کہ میں اسے اسی ایک کوالٹی کی خاطر کسی بھی دوسرے شخص پر ترجیح دیتی۔”
سالار عجیب سے انداز میں مسکرایا۔” what a logic ایسی باتوں کو میں واقعی ہی نہیں سمجھ سکتا۔”
اس نے گردن کو نفی میں ہلاتے ہوئے کہا۔
"تم اپنی پسند سے شادی کرو گے یا اپنے پیرنٹس کی پسند سے؟” امامہ نے اچانک اس سے پوچھا۔ وہ حیران ہوا۔
"آف کورس اپنی پسند سے۔۔۔۔۔ پیرنٹس کی پسند سے شادی والا زمانہ تو نہیں ہے یہ۔” اس نے کندھے اچکاتے ہوئے لاپرواہی سے کہا۔
"تم بھی تو کسی کوالٹی کی وجہ سے ہی کوئی لڑکی پسند کرو گے۔۔۔۔۔ شکل و صورت کی وجہ سے ۔۔۔۔۔ یا پھر جس سے تمہاری انڈراسٹینڈنگ ہو جائے گی اس سے۔۔۔۔۔ ایسا ہی ہو گا نا۔” وہ پوچھ رہی تھی۔
"یقیناً۔” سالار نے کہا۔
"میں بھی تو یہی کر رہی ہوں۔ اپنی اپنی ترجیحات کی بات ہوتی ہے۔ تم ان چیزوں کی بنا پر کسی سے شادی کرو گے، میں بھی ایسی ہی ایک وجہ کی بنا پر شادی کرنا چاہتی تھی جلال انصر سے۔۔۔۔۔” وہ رکی۔
"میری خواہش ہے، میری شادی اس سے ہو جو حضرت محمدﷺ سے مجھ سے زیادہ محبت رکھتا ہو۔ جلال انصر! آپ ﷺ سے مجھ سے زیادہ محبت کرتا تھا۔۔۔۔۔ مجھے لگا، مجھے اسی شخص سے شادی کرنی چاہئیے۔۔۔۔۔ میں نے تم سے کہا بعض چیزوں پر اختیار نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ بعض خواہشات۔۔۔۔۔ بس ان سے چھٹکارا پانا ممکن نہیں ہوتا۔” اس نے افسردگی سے سر کو جھٹکتے ہوئے کہا۔
"اور اب جب وہ شادی کر چکا ہے تو اب تم کیا کرو گی؟”
"پتا نہیں۔”
"تم ایسا کرو۔۔۔۔۔ کہ تم کسی اور نعت پڑھنے والے کو ڈھونڈ لو، تمہارا مسئلہ حل ہو جائے گا۔” وہ مذاق اڑانے والے انداز میں ہنسا۔
امامہ پلکیں جھپکائے بغیر اسے دیکھتی رہی۔ وہ سفاکی کی حد تک بے حس تھا۔” اس طرح کیوں دیکھ رہی وہ تم۔۔۔۔۔ میں مذاق کر رہا ہوں۔” وہ اب اپنی ہنسی پر قابو پا چکا تھا۔ امامہ نے کچھ کہنے کے بجائے گردن موڑ لی۔
"تمہیں تمہارے فادر نے مارا ہے۔” سالار نے پہلے کی طرح کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولنے کا معمول جاری رکھا۔
"تمہیں کس نے بتایا۔” امامہ نے اسے دیکھے بغیر کہا۔
"ملازمہ نے۔” سالار نے اطمینان سے جواب دیا۔” بیچاری یہ سمجھ رہی کے کہ تم جو یہ شادی سے انکار کر رہی ہو وہ میری وجہ سے کر رہی ہو۔ اس لئے اس نے مجھ تک تمہاری "حالتِ زار” بڑے درد ناک انداز میں پہنچائی تھی۔۔۔۔۔ مارا ہے تمہارے فادر نے؟”
"ہاں۔” اس نے بے تاثر انداز میں کہا۔
"کیوں؟”
"میں نے پوچھا نہیں۔۔۔۔۔ شاید وہ ناراض تھے اس لئے۔”
"تم نے کیوں مارنے دیا۔”
امامہ نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔” وہ میرے بابا ہیں، انہیں حق ہے، وہ مار سکتے ہیں مجھے۔”
سالار نے حیرانی سے اسے دیکھا۔” ان کی جگہ کوئی بھی ہوتا، وہ اس صورتِ حال میں یہی کرتا۔۔۔۔۔ مجھے یہ قابلِ اعتراض نہیں لگا۔” وہ بڑے ہموار لہجے میں کہہ رہی تھی۔
"اگر مارنے کا حق ہےا نہیں تو پھر تمہاری شادی کرنے کا بھی حق ہے۔۔۔۔۔ اس پر اتنا ہنگامہ کیوں کھڑا کر رہی ہو تم۔” سالار نے چبھتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
"کسی مسلمان سے کرتے۔۔۔۔۔ اور چاہے جہاں مرضی کر دیتے۔۔۔۔۔ میں کروا لیتی۔”
"چاہے وہ جلال انصر نہ ہوتا۔” استہزائیہ انداز میں کہا۔
"ہاں۔۔۔۔۔ اب بھی آخر کون سا ہو گئی ہے اس سے۔” اس کی آنکھوں میں ایک بار پھر نمی جھلملا رہی تھی۔
"تو تم ان سے یہ کہہ دیتیں۔”
"کہا تھا۔۔۔۔۔ تم سمجھتے ہو میں نے نہیں کہا ہو گا۔”
"مجھے ایک بات پر بہت حیرانی ہے۔” سالار نے چند لمحوں کے بعد کہا۔”آخر تم نے مجھے سے مدد لینے کا فیصلہ کیوں کیا۔۔۔۔۔ بلکہ کیسے کر لیا۔ تم مجھے خاصا ناپسند کرتی تھیں۔” اس نے امامہ کی بات کا جواب دئیے بغیر بات جاری رکھی۔
"میرے پاس تمہارے علاوہ دوسرا کوئی آپشن تھا ہی نہیں۔” امامہ نے مدھم آواز میں کہا۔” میری اپنی کوئی فرینڈ اس طرح میری مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی جس طرح کوئی لڑکا کر سکتا تھا۔ اسجد کے علاوہ میں صرف جلال اور تم سے واقف تھی۔۔۔۔۔ اور سب سے قریب ترین صرف تم تھے جس سے میں فوری رابطہ کر سکتی تھی، اس لئے میں نے تم سے رابطہ کیا۔” وہ مدھم آواز میں رک رک کر بولتی رہی۔
"تمہیں یقین تھا کہ میں تمہاری مدد کروں گا؟”
"نہیں۔۔۔۔۔ میں نے صرف ایک رسک لیا تھا۔ یقین کیسے ہو سکتا تھا مجھے کہ تم میری مدد کرو گے۔ میں نے تمہیں بتایا نا! میرے پاس تمہارے علاوہ اور کوئی آپشن تھا ہی نہیں۔”
"یعنی تم نے ضرورت کے وقت گدھے کو باپ بنا لیا ہے۔” اس کے بے حد عجیب لہجے میں کئے گئے تبصرے نے یک دم امامہ کو خاموش ہو جانے پر مجبور کر دیا۔ وہ بات منہ پر مارنے میں ماہر تھا مگر اس نے غلط بھی نہیں کہا تھا۔
"ویری انٹرسٹنگ۔” اس نے امامہ کے جواب کا انتظار کئے بغیر کہا جیسے اپنے تبصرے پر خود ہی محظوظ ہوا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

"میں گاڑی کچھ دیر کے لئے یہا ں روکنا چاہ رہا ہوں۔” سالار نے سڑک کے کنارے بنے ہوئے ایک سستے قسم کے ہوٹل اور سروس اسٹیشن کو دیکھتے ہوئے کہا۔
"میں ذرا ٹائر چیک کروانا چاہ رہا ہوں۔گاڑی میں دوسرا ٹائر نہیں ہے، رستے میں اگر کہیں ٹائر فلیٹ ہو گیا تو بہت مسئلہ ہو گا۔”
امامہ نے صرف سر ہلانے پر اکتفا کیا۔ وہ گاڑی موڑ کر اندر لے گیا۔ اس وقت دور کہیں فجر کی اذان ہو رہی تھی۔ ہوٹل میں کام کرنے والے دو چار لوگوں کے علاوہ وہاں اور کوئی نہیں تھا۔ اسے گاڑی اندر لاتے دیکھ کر ایک آدمی باہر نکل آیا۔ شاید وہ گاڑی کی آواز سن کر آیا تھا۔ سالار گاڑی کا دروازہ کھول کر نیچے اتر گیا۔
وہ کچھ دیر سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے آنکھیں بند کئے بیٹھی رہی۔ اذان کی آواز کچھ زیادہ بلند ہو گئی تھی۔ امامہ نے آنکھیں کھول دیں۔ کار کا دروازہ کھول کر وہ باہر نکل آئی۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر سالار نے گردن موڑ کر اسے دیکھا تھا۔
"یہاں کتنی دیر رکنا ہے؟” وہ سالار سے پوچھ رہی تھی۔
"دس پندرہ منٹ۔۔۔۔۔ میں انجن بھی ایک دفعہ چیک کروانا چاہتا ہوں۔”
"میں نماز پڑھنا چاہتی ہوں، مجھے وضو کرنا ہے۔” اس نے سالار سے کہا۔ اس سے پہلے کہ سالار کچھ کہتا۔
اس آدمی نے بلند آواز میں اسے پکارتے ہوئے کہا۔
"باجی! وضو کرنا ہے تو اس ڈرم سے پانی لے لیں۔”
"اور وہ نماز کہاں پڑھے گی؟” سالار نے اس آدمی سے پوچھا۔
"یہ سامنے والے کمرے میں۔۔۔۔۔ میں جائے نماز دے دیتا ہوں۔” وہ اب پائپ اتار رہا تھا۔
"پہلے جائے نماز دے دوں پھر انجن آ کر چیک کرتا ہوں۔” اس آدمی نے اس کمرے کی طرف جاتے ہوئے کہا۔
سالار نے دور سے امامہ کو اس ڈرم کے پاس کچھ تذبذب کی حالت میں کھڑے دیکھا۔ وہ لاشعوری طور پر آگے چلا آیا۔ وہ تارکول کا ایک بہت بڑا خالی ڈرم تھا جسے ایک ڈھکن سے کور کیا گیا تھا۔
"اس میں سے پانی کیسے لوں؟” امامہ نے قدموں کی چاپ پر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ سالار نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی۔ کچھ فاصلے پر ایک بالٹی پڑی ہوئی تھی۔ وہ اس بالٹی کو اٹھا لایا۔
"میرا خیال ہے یہ ا سی بالٹی کو پانی نکالنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔” اس نے امامہ سے کہتے ہوئے ڈرم کا ڈھکن اٹھایا اور اس میں سے پانی بالٹی میں بھر لیا۔
"میں کرا دیتا ہوں وضو۔” سالار کو اس کے چہرے پر تذبذب نظر آیا مگر پھر کچھ کہنے کے بجائے وہ اپنی آستین اوپر کرنے لگی۔ اپنی گھڑی اتار کر اس نے سالار کی طرف بڑھا دی اور پنجوں کے بل زمین پر بیٹھ گئی۔ سالار نے اس کے بڑھے ہوئے ہاتھوں پر کچھ پانی ڈالا۔ امامہ کو بے اختیار جیسے کرنٹ لگا۔ اس نے یک دم اپنے ہاتھ پیچھے کر لئے۔
"کیا ہوا؟” سالار نے کچھ حیرانی سے کہا۔
"کچھ نہیں، پانی بہت ٹھنڈا ہے۔۔۔۔۔ تم پانی ڈالو۔” وہ ایک بار پھر ہاتھ پھیلا رہی تھی۔
سالار نے پانی ڈالنا شروع کر دیا۔ وہ وضو کرنے لگی۔ پہلی بار سالار نے اس کے ہاتھوں کو کہنیوں تک دیکھا۔ کچھ دیر کے لئے وہ اس کی کلائیوں سے نظر نہیں ہٹا سکا، پھر اس کی نظر اس کی کلائیوں سے اس کے چہرے پر چلی گئی۔ وہ اپنی چادر کو ہٹائے بغیر بڑی احتیاط کے ساتھ سر، کانوں اور گردن کا مسح کر رہی تھی اور سالار کی نظریں اس کے ہاتھوں کی حرکت کے ساتھ ساتھ سفر کر رہی تھیں۔ اس کی گردن میں موجود سونے کی چین اور اس میں لٹکنے والے موتی کو بھی اس نے پہلی بار دریافت کیا تھا۔ سالار نے اسے جتنی بار دیکھا تھا اسی طرح کی چادر میں دیکھا تھا۔ چادر کا رنگ مختلف ہوتا مگر وہ ہمیشہ اسے ایک ہی انداز میں لپیٹے ہوتی۔ وہ کبھی اس کے خدوخال پر غور نہیں کر سکا۔
"پاؤں پر پانی میں خود ڈال لیتی ہوں۔” اس نے کھڑے ہوتے ہوئے سالار کے ہاتھ سے اس بالٹی کو پکڑ لیا جو اب تقریباً خالی ہونے والی تھی۔ سالار چند قدم پیچھے ہٹ کر محویت سے دیکھنے لگا۔
وہ وضو کر چکی تو سالار کی محویت ختم ہوئی۔ اس نے گھڑی ا س کی طرف بڑھا دی۔
آگے پیچھے چلتے ہوئے وہ اس کمرے تک آئے جہاں وہ آدمی گیا تھا۔ وہ آدمی جب تک کمرے میں ایک طرف مصلحٰے بچھا چکا تھا۔ امامہ خاموشی سے جائے نماز کی طرف بڑھ گئی۔

عمیرہ احمد کے ناول پیرِ کامل سے اقتباس

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button