- Advertisement -

Aalam Bux Aur Kaala Reech

Aalam Bux Aur Kaala Reech By Kenith

عالم بخش اور کالا ریچھ
یہ کہانی کالے ریچھ سے متعلق ہے، جو بہت بڑا اور بہت برا تھا۔
میں کئی دوسری کہانیوں میں بتا چکا ہوں کہ تمام ریچھ بدمزاج، ناقابلِ اعتبار اور غصیلے ہوتے ہیں۔ عموماً یہ انسانوں پر بغیر کسی وجہ کے محض اس لیے حملہ کر دیتے ہیں کہ ان کے سوتے ہوئے یا پیٹ بھرتے ہوئے یا ویسے ہی کوئی انسان کے قریب سے گزر رہا تھا۔اس لیے مقامی قبائل ریچھوں سے کافی دور رہنا ہی مناسب سمجھتے ہیں۔ اسی طرح ہاتھیوں سے بھی مقامی لوگ فاصلہ رکھنا بہتر سمجھتے ہیں۔
یہ ریچھ دیگر کی نسبت انتہائی بدمزاج اور زیادہ کمینہ تھا۔ بہت دور سے بھی انسان کو دیکھ کر وہ ہر ممکن کوشش کر کے انسانوں پر حملہ کرتا۔
اس عجیب رویے کی توجیہ مشکل ہے۔ اس بارے کئی کہانیاں مشہور تھیں۔ ایک کے مطابق تو یہ ریچھ پاگل ہو چکا تھا۔ دوسری کہانی کے مطابق یہ ریچھ نہیں بلکہ ریچھنی تھی جس کے بچوں کو کسی انسان نے چرا لیا تو یہ پاگل ہو گئی۔ میرا خیال ہے کہ اس ریچھ کو کسی انسان نے ماضی میں زخمی کیا ہوگا۔ ایک کہانی تو یہ بھی مشہور تھی کہ ایک سال قبل ایک نوجوان لڑکی کو ریچھ نے اغوا کر کے اپنی بیوی بنا لیا تھا۔ یہ لڑکی اس وقت پہاڑی پر بکریاں چرا رہی تھی جہاں ریچھ بھی ایک غار میں رہتا تھا۔ ریچھ اسے اپنی غار میں لے گیا۔ کہانی کے مطابق پھر دیہاتی اس لڑکی کو چھڑانے گئے اور ریچھ کے غصے کے باوجود اسے چھڑا کر لے آئے۔ اسی وجہ سے ریچھ نے انسانوں سے انتقام لینا شروع کر دیا۔
وجہ چاہے جو بھی رہی ہو، ریچھ کے متاثرین کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ اس ریچھ کے ہاتھوں کم از کم بارہ افراد ہلاک اور پچیس سے زیادہ مجروح ہوئے تھے۔
ہر ریچھ کی مانند اس کا پہلا وار ہمیشہ اپنے شکار کے چہرے پر ہوتا تھا جسے وہ اپنے بہت لمبے اور طاقتور ناخنوں سے چیرنا شروع کر دیتا تھا اور ساتھ ساتھ چہرے کو چبانا بھی شروع کر دیتا۔ اس کے زخمی کردہ نصف افراد کی ایک یا دونوں آنکھیں ضائع ہو چکی تھیں۔ بعض کے ناک غائب تھے تو بعض کی رخساروں کی ہڈیاں نکل آئی تھیں۔ جو افراد جاں بحق ہوئے، ان میں تقریباً سبھی کا چہرہ ان کے سر سے الگ ہو چکا ہوتا تھا۔ مقامی لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ یہ ریچھ آدم خور ہو چکا ہے کیونکہ اس کے شکار کردہ کم از کم تین انسانوں کی لاشیں جزوی کھائی جا چکی تھیں۔
چونکہ ان افواہوں کی تصدیق کرنے کا موقع مجھے نہیں ملا مگر شاید ان میں کچھ صداقت ہو سکتی ہے کہ ہندوستانی کالا ریچھ مردار بھی کھا لیتا ہے، تاہم عام حالات میں یہ ریچھ سبزی خور ہوتا ہے اور جڑوں، پھل، شہد، دیمک اور اسی طرز کی دیگر چیزیں کھاتا ہے۔ مگر تازہ گوشت چاہے وہ حیوانی ہو یا انسانی، اس سے منہ نہیں موڑتا۔
یہ ریچھ پہلے ناگوارہ کی پہاڑیوں میں رہتا تھا جو ارسیکری کے بڑے قصبے کے مشرق میں ہے۔ یہ علاقہ ریاست میسور میں اور بنگلور سے 105 میل اور شمال مغرب میں واقع ہے۔
انہی پہاڑیوں میں اس نے وارداتیں شروع کی تھیں۔ پھر جوں جوں انسان کا خوف اس کے دل سے نکلتا گیا، اس نے نیچے میدانی علاقوں تک اپنی سرگرمیوں کا دائرہ بڑھا دیا اور کھیتوں میں لوگوں کو طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت ڈرانے پہنچ جاتا۔ وہ یہاں پائی جانے والی بے شمار چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں سے نکل کر پیٹ بھرنے کہیں بھی پہنچ جاتا۔
سال بھر سے میں اس ریچھ کے بارے اڑتی اڑتی خبریں سن رہا تھا مگر زیادہ توجہ اس لیے نہیں دی کہ ہندوستان میں جنگلی درندوں کے ہاتھوں زخمی ہونے کے بارے باتیں بہت بڑھا چڑھا کر پیش کی جاتی ہیں۔ مزید یہ بھی کہ مجھے ریچھوں سے کافی دلچسپی ہے اور شاید اسی وجہ نظرانداز کر گیا۔ میں اس ریچھ کا پیچھا کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
مگر ایک واقعہ ایسا پیش آیا کہ مجھے مجبور ہونا پڑا۔ میرا ایک مسلمان دوست تھا جس کا نام عالم بخش تھا۔ عالم بخش ارسیکری اور شموگا کے درمیان واقع ایک مسلمان پیر کے مزار کا متولی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بزرگ پچاس سال قبل یہاں رہتے تھے۔ ہندوستان کے طول و عرض میں ایسے مزار بے شمار ملتے ہیں۔ مسلمان قوم انہیں بہت مقدس سمجھتی اور ان کا احترام کرتی ہے۔ ہر مزار کا اپنا ایک متولی ہوتا ہے جو عموماً کوئی بوڑھا آدمی ہوتا ہے جو خود ہی یہ ذمہ داری سنبھال لیتا ہے اور وہیں پاس ہی رہنا شروع کر دیتا ہے۔ ذمہ داریوں میں عموماً مزار پر چراغ جلانا ہوتا ہے جو ساری رات جلتا رہتا ہے۔ یہ علامت ہوتی ہے کہ اس پیر کی یاد اس کے مریدوں کے دل میں اسی طرح روشن رہتی ہے۔
پہلی بار عالم بخش سے میری ملاقات بنگلور سے شموگا جاتے ہوئے ایک تاریک رات ہوئی تھی۔ میں شیر کے شکار پر جا رہا تھا۔ اچانک گاڑی کا پچھلا پہیہ نکل گیا اور گاڑی زور سے سڑک سے ٹکرائی۔ اس وقت میں اکیلا سفر کر رہا تھا اور نیچے اتر کر میں نے مایوسی اور غصے سے گاڑی کا جائزہ لیا۔ خوش قسمتی سے یہ حادثہ اس مزار کے عین سامنے ہوا تھا اور شور سن کر عالم بخش اپنی جھگی سے باہر نکلا۔ میرا مسئلہ دیکھ کر اس نے مدد کرنے کے لیے لالٹین جلایا اور پھر گاڑی کے سامنے پتھر وغیرہ رکھ دیے تاکہ میں گاڑی کو اٹھا سکوں۔ پھر اس نے مجھے گرم چائے کا پیالہ بھی لا کر دیا۔ میں نے پہیہ بدلا اور پھر اس کا شکریہ ادا کیا اور پھر وعدہ کیا کہ جب بھی یہاں سے گزرا، اس سے لازماً ملاقات کروں گا۔ میں نے اس وعدے کو ہمیشہ نبھایا اور ہر بار اس کے لیے کوئی تحفے تحائف اور دیگر سامان لاتا رہا۔
مزار سے چار سو گز پیچھے چھوٹی سی پہاڑی ہے جس میں بڑے بڑے پتھر موجود ہیں اور یہاں خاردار جھاڑیاں اگی ہیں۔ اس مقام سے لے کر مزار تک، مون سون کے موسم میں دیہاتی مونگ پھلی بو دیتے ہیں۔ ہر ریچھ مونگ پھلیوں کا شیدائی ہوتا ہے اور یہ ریچھ بھی تھا۔ یہ پہاڑی ریچھ کی رہائش کے لیے بہترین مقام ہے اور ساتھ ہی مونگ پھلیاں بھی موجود ہیں۔ سو ریچھ نے یہاں رہنا شروع کر دیا۔
ریچھ کی رہائش ایک بڑے پتھر کے نیچے موجود غار تھی۔ سورج غروب ہوتے ہی وہ بھوک سے بے تاب ہو کر اس غار سے نکل آتا اور جوں جوں تاریکی گہری ہوتی، وہ مونگ پھلی کے کھیتوں کی جانب اترتا دکھائی دیتا۔ یہاں وہ ساری رات پیٹ بھرتا۔ علی الصبح وہ بھرے پیٹ کے ساتھ لوٹ جاتا۔ سکون سے سارا دن سو کر گزارتا۔ میں یہ کہنا بھول گیا تھا کہ پہاڑی کی دوسری جانب ایک قدرتی تالاب تھا۔ سو ریچھ کی تمام تر ضروریات آسانی سے پوری ہو رہی تھیں۔
اسی دوران مزار کے ساتھ سڑک پر موجود انجیر کے درختوں پر پھل پک گیا اور شاخیں پکے ہوئے انجیروں سے جھک گئیں۔ بہت سارے انجیر نیچے گر جاتے۔ سینکڑوں کی تعداد میں مختلف اقسام کے پرندے دن کے وقت اپنا پیٹ بھرنے آتے۔ رات کو ہندوستانی پھل والی چمگادڑیں پہنچ جاتیں اور شور مچاتے ہوئے اپنا پیٹ بھرتیں۔
یہ بے شمار پرندے اور جانور دن رات اپنا پیٹ بھرنے کے دوران بہت سارے انجیر گرا بھی دیتے اور کچھ انجیر پک کر خود ہی گر جاتے تو کچھ ہوا سے گرتے۔ ریچھ کو انجیر بھی بہت پسند ہوتے ہیں۔
اب کھیتوں سے نکل کر وہ انجیر کے درختوں تک آنا شروع ہو گیا جو مزار کے گرد و نواح میں تھے۔ یہاں سے مسئلہ شروع ہوا۔
عالم بخش کا بائیس سال کا ایک بیٹا تھا جو اس کی بیوی اور بہن کے ساتھ وہیں رہتا تھا۔ ایک رات کھانا کھانے کے بعد جب سب سونے لگے تو لڑکے کو کسی وجہ سے باہر جانا پڑا۔ رات تاریک تھی اور ریچھ پاس ہی انجیر کے درختوں کے نیچے پیٹ بھر رہا تھا۔ اچانک انسان کے ظہور سے ریچھ کو خطرہ محسوس ہوا ہوگا اور اس نے فوراً حملہ کر دیا۔ یہ حملہ حادثاتی تھا اور ریچھ نے چہرے کی بجائے گلے پر حملہ کیا۔ لڑکے نے چیخنے کی کوشش کی اور ریچھ کو لاتیں اور گھونسے مارے۔ ریچھ نے پھر حملہ کیا اور ایک آنکھ اور ناک نکال لے گیا اور اس کے سینے، کندھوں اور کمر پر پنجوں سے گہری خراشیں ڈالیں اور پھر اسے چھوڑ کر اندھیرے میں گم ہو گیا۔
خون میں لت پت لڑکا گھر واپس پہنچا۔ اس کی شہہ رگ کٹ گئی تھی اور اگرچہ ان لوگوں نے پرانے کپڑوں سے خون روکنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔
صبحِ کاذب کے وقت لڑکے کی روح نکل گئی۔ انجیروں اور مونگ پھلیوں سے پیٹ بھر کر ریچھ واپس اپنی غار میں چلا گیا۔
عالم بخش بہت غریب تھا اور تار بھیجنے کے قابل نہ تھا اور نہ ہی اتنے پیسے تھے کہ بنگلور تک کا کرایہ بھرتا۔ تاہم اس نے پوسٹ کارڈ پر اپنی داستانِ غم پنسل سے اردو زبان میں لکھ کر بھیجی۔ خط پر اس کے خشک آنسو موجود تھے۔ دو روز بعد مجھے یہ پوسٹ کارڈ ملا اور تین گھنٹے بعد میں ارسیکری روانہ ہو گیا۔
میرا خیال تھا کہ ریچھ کا شکار آسان کام ہوگا اور ایک یا دو گھنٹے بعد فارغ ہو جاؤں گا۔ اسی وجہ سے میں نے زیادہ تیاری نہیں کی تھی۔ میرے پاس ٹارچ، اعشاریہ 405 بور کی ونچسٹر رائفل اور ایک جوڑا کپڑے تھے۔ شام پانچ بجے کے بعد میں عالم بخش کو ملا اور کہانی سننے پر زیادہ وقت نہیں لگا۔
راتیں تاریک تھیں۔ مگر میرا منصوبہ سادہ سا تھا کہ میں اندھیرا چھانے کے بعد باہر نکلتا اور ٹارچ کی روشنی میں ریچھ کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا۔
یہ سن کر عالم بخش مجھے اپنی جھگی کے اندر لے گیا اور دروازہ بند کر دیا۔ اس چھوٹے سے کمرے میں دیے کی روشنی میں اس نے مجھے کئی مرتبہ اپنے بیٹے کی موت کے واقعات سنائے۔ ہر چند منٹ بعد پورا خاندان رونے لگ جاتا۔ مجبوری کی حالت میں مجھے آٹھ بجے تک یہ سب برداشت کرنا پڑا۔ آٹھ بجے جب یہ برداشت سے باہر ہو گیا تو میں نے ریچھ کی تلاش میں باہر نکلنے کا فیصلہ کیا۔
اپنی رائفل بھر کر میں نے ٹارچ کا معائنہ کیا اور پھر باہر قدم رکھا۔ عالم بخش نے میرے پیچھے دروازہ بند کر کے کنڈی لگا دی۔ تاریکی بہت گہری تھی اور جونہی میں نے رائفل پر موجود ٹارچ کو جلایا تو اس کی طاقتور روشنی نے بائیں جانب مجھے مونگ پھلی کے کھیت دکھائے اور دائیں جانب سڑک کے کنارے انجیر کے درخت کھڑے تھے۔
چونکہ ریچھ کہیں دکھائی نہیں دیا، میں نے فیصلہ کیا کہ میں اسے تلاش کرتا ہوں اور یہ کام انجیر کے درختوں سے شروع کیا۔ درخت سڑک کے دونوں جانب تھے، سو میں نے سڑک پر چلنے کا فیصلہ کیا اور ٹارچ دونوں جانب گھماتا جاتا۔ اس طرح میں ڈیڑھ میل ایک سمت میں چلا مگر ریچھ نہ دکھائی دیا۔ پھر میں مزار کی طرف لوٹا اور پھر دوسری جانب ڈیڑھ میل چلا۔ مگر ریچھ ندارد۔ پھر میں مزار کو لوٹا اور مونگ پھلی کے کھیتوں میں ریچھ کو تلاش کرنے لگا۔
ٹارچ کی روشنی منعکس کرتے ہوئے بہت ساری چمکدار آنکھیں مجھے دیکھنے لگیں۔ تاہم یہ سب خرگوش اور تین چار گیدڑ تھے۔ میں نے پہاڑی کے گرد چکر کاٹا اور راستے میں کیچڑ میں لوٹتے ہوئے کچھ سور ڈر کر بھاگ اٹھے۔ تاہم ریچھ کا کوئی نشان نہ ملا۔ پھر میں پہاڑی کے قریب پہنچ کر اس کے گرد دو یا تین چکر لگائے اور ٹارچ کی روشنی اوپر اور اطراف میں پھینکتا رہا۔ میں کافی تھک گیا تھا مگر ریچھ کا کوئی اتہ پتہ نہیں تھا۔ تیسرے چکر پر میں ایک انتہائی زہریلے رسل وائپر پر پیر رکھتے رکھتے بچا۔ یہ سانپ عین میرے راستے میں دو پتھروں کے درمیان کنڈلی مارے بیٹھا تھا۔ چونکہ میں ریچھ کی تلاش پر توجہ دے رہا تھا، اس لیے راستے کو نظرانداز کر دیا تھا۔ میرا پیر اس کے منہ سے چند انچ کے فاصلے پر پڑا اور اس کی پھنکار سن کر میں خبردار ہوا۔ لاشعوری طور پر میں نے فوراً پیچھے کو چھلانگ لگائی اور سانپ پر روشنی ڈالی تو دیکھا اس کا وار عین اسی جگہ ہوا جہاں سے میں نے قدم ہٹایا تھا۔ میں بال بال بچا تھا اور ایک لمحے کو تو خیال آیا کہ سانپ کو گولی مار دوں۔ تاہم اس طرح اتنا شور ہوتا کہ ریچھ فرار ہو جاتا اور ویسے بھی قیمتی کارتوس ضائع ہوتا۔ ویسے بھی سانپ نے حملہ کرنے سے قبل مجھے پھنکار کر خبردار تو کر ہی دیا تھا۔ سو میں نے اس پر چھوٹا پتھر پھینکا اور سانپ فرار ہو گیا۔
اس وقت تک یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ یا تو ریچھ شام ہوتے ہی اترا اور اب بہت دور پہنچ چکا ہوگا یا پھر ابھی تک اس کا پیٹ بھرا ہوگا اور غار میں سو رہا ہوگا۔ میں نے سوچا کہ عالم بخش کی جھگی کو جا کر دو گھنٹے بعد پھر چکر لگاؤں گا۔
میں نے ایسا ہی کیا اور ایسے دو مزید چکروں کے بعد بھی ریچھ کا کوئی نشان نہ ملا۔ صبحِ کاذب ہو گئی مگر ریچھ نہ دکھائی دیا۔
جب دن نکل آیا تو میں نے عالم بخش سے کہا کہ میں بنگلور جانا رہا ہوں مگر اس نے درخواست کی کہ آج کا دن رک کر پہاڑی پر غاروں میں ریچھ کو تلاش کروں۔ اس دوران اس کی بیوی میرے لیے گرما گرم روٹیاں اور چائے بنا چکی ہے۔ دونوں سے میں نے خوب انصاف کیا۔ پھر میں سو گیا۔ دوپہر کے وقت عالم بخش نے مجھے بیدار کر کے بتایا کہ اس کی بیوی نے میرے لیے خصوصی طور پر پلاؤ تیار کیا ہے۔ اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میں خوب پیٹ بھر کر پلاؤ کھایا۔ عالم بخش کی بیوی یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئی کہ مجھے اس کا بنایا ہوا پلاؤ بہت پسند آیا تھا۔ سورج اب نصف النہار پر تھا اور خوب گرمی ہو گئی تھی۔ ریچھ کی تلاش کا یہ بہت موزوں وقت تھا کہ اس وقت ریچھ خوب گہری نیند سو رہے ہوتے ہیں۔
عالم بخش میرے ساتھ پہاڑی پر آیا اور پچاس گز کے فاصلے سے اس نے وہ غار دکھائی جہاں ریچھ رہتا تھا۔ میں نے ربر سول جوتے پہنے تھے سو انتہائی خاموشی سے غار کے قریب پہنچا۔ تاہم اس کا نقصان یہ تھا کہ گرم پتھر اب میرے تلوے جلا رہے تھے۔
غار کے منہ پر پہنچ کر میں اکڑوں بیٹھ کر پوری توجہ سے آوازیں سننے لگا۔
سوتا ہوا ریچھ زور زور سے خراٹے لیتا ہے جو انسان جتنے ہی بلند ہوتے ہیں۔ اگر ریچھ سو رہا ہوتا تو مجھے اس کے خراٹوں کی آواز آنی چاہیے تھی۔ دس منٹ میں سورج میری پشت جلانے لگا اور میں نے چند پتھر اٹھا کر غار کے اندر پھینکے۔
یہ بات عام فہم ہے کہ اس طرح کی مداخلت سے سویا ہوا ریچھ بہت غصے میں آ جاتا ہے۔ مگر غار میں خاموشی ہی رہی۔ میں نے پھر چند پتھر پھینکے مگر کچھ نہ ہوا۔ ریچھ اندر نہیں تھا۔
پہاڑی سے اتر کر میں نے عالم بخش کو بتایا کہ ریچھ موجود نہیں۔ پھر بتایا کہ میں بنگلور واپس جا رہا ہوں اور ریچھ کی اطلاع ملتے ہی مجھے تار بھیج دے۔ میں نے اسے کچھ پیسے دیے تاکہ فوری ضروریات پوری کر سکے اور تار بھی بھیج سکے۔ پھر میں بنگلور لوٹ آیا۔ ایک مہینہ گزر گیا مگر کوئی اطلاع نہ ملی۔
مزار کے دوسری جانب شمال مغرب میں بیس میل دور چک مگلور کا جنگل شروع ہوتا ہے جو میسور کے ضلع کدور میں واقع ہے۔چک مگلور اور کدور کے وسط میں سیکری پنٹہ کا چھوٹا سا قصبہ ہے اور اس کے چاروں طرف جنگل ہے۔
ریچھ کی اگلی خبر مجھے سیکرے پنٹہ کے نزدیک سے ملی جہاں ریچھ نے دو لکڑہاروں کو زخمی کیا تھا اور ان میں سے ایک جاں بحق ہو گیا۔ چک مگلور نے فارسٹ آفیسر نے مجھے خط لکھ کر اس ریچھ سے دو دو ہاتھ کرنے کی درخواست کی۔
میں نے سوچا کہ یہ وہی ریچھ ہوگا جس نے عالم بخش کے بیٹے کو ہلاک کیا تھا۔ تاہم اتنے بڑے جنگل میں ایک ریچھ کو تلاش کرنا بھوسے کے ڈھیر سے سوئی تلاش کرنا کارِ دارد تھا۔ سو میں نے ڈی ایف او کو خط لکھا کہ وہ مجھے اس ریچھ کے بارے مزید معلومات بھیجے۔
دس روز بعد مجھے اس کا جواب ملا کہ اس ریچھ کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ قصبے سے تین میل دور ایک پہاڑی غار میں رہتا ہے۔ یہاں قریب سے ہی ایک راستہ گزرتا ہے جہاں گشت کرتے ہوئے فارسٹ گارڈ کو ریچھ نے زخمی کیا تھا۔
سو میں چک مگلور روانہ ہوا اور وہاں ڈی ایف او کو اٹھایا اور سیکری پنٹہ کا رخ کیا جہاں میسور کے محکمہ جنگلات کا چھوٹا ریسٹ ہاؤس ہے۔ یہاں اگلے چند روز میرا قیام ہونا تھا۔
قسمت سے اگلے روز دوپہر کو ایک بندہ دوڑتا ہوا آیا اور ہمیں بتایا کہ اس کا بھائی جو گڈریا ہے، ریچھ کی قیام گاہ والی پہاڑی کے پاس مویشی چرا رہا تھا کہ ریچھ نے اس پر حملہ کیا۔ اس نے مدد کے لیے شور مچایا تو ریچھ نے بھی غرانا شروع کر دیا۔ اس کا بھائی جو پہاڑی کے نیچے تھا، نے آوازیں سنتے ہی دوڑ لگائی اور ہمارے پاس آن کر دم لیا۔
ریچھ ہمیشہ شبینہ جانور ہوتے ہیں اور کبھی بھی دن کے وقت حرکت کرتے نہیں دکھائی دیتے۔ زیادہ سے زیادہ وہ صبح یا شام کے دھندلکے میں دکھائی دے سکتا ہے۔ مگر دوپہر کے وقت تو ناممکن ہے۔ شاید گڈریا ریچھ کے غار کے بہت قریب پہنچ گیا ہوگا جس سے ریچھ نے اس پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کی یہی واحد توجیہہ تھی۔
ہمیں یہ خبر ساڑھے چار بجے کے قریب ملی، سو میں نے رائفل اور ٹارچ اٹھائی اور تین چار مددگاروں کو ساتھ لے کر روانہ ہوا تاکہ گڈریے کی مدد کروں۔ جلد ہی ہمیں احساس ہو گیا کہ فاصلہ گڈریے کے بھائی کی اطلاع سے کہیں زیادہ تھا۔ کم از کم چھ میل کا سفر طے کرنے کے بعد ہم اس پہاڑی کے قریب پہنچے جس پر گھنا جھاڑ جھنکار اور بانس کا جنگل بھی اگا ہوا تھا۔ چھ بج رہے تھے اور سردیوں کا موسم تھا اور اندھیرا چھا رہا تھا۔ میرے ساتھ آئے آدمیوں نے آگے بڑھنے سے یکسر انکار کر دیا اور کہا کہ وہ سیکری پنٹہ جا رہے ہیں اور مجھے بھی یہی کہا کہ ابھی واپس چلوں اور اگلی صبح تلاش کا کام کریں گے۔ تاہم گڈریے کے بھائی نے کہا کہ وہ اسی جگہ رک کر میرا انتظار کرے گا مگر اسے جنگل میں جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ اپنے بھائی کے محلِ وقوع کے بارے اس نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ اس جگہ کہیں ہوگا۔
میں نے اس جگہ کا رخ کیا اور اس بندے کا نام بہ آوازِ بلند لیتا گیا۔ مجھے کوئی جواب نہ ملا سو میں نے مزید آگے گھنے جنگل کا رخ کیا۔ اس وقت تک تاریکی گہری ہو چکی تھی مگر مجھے مسئلہ نہیں ہوا کہ میرے پاس ٹارچ تھی۔ اس کی روشنی میں نے اِدھر اُدھر پھینکنا شروع کر دی۔
جلد ہی جنگل اتنا گھنا ہو گیا کہ مجھے رکنا پڑا۔ میں مڑنے ہی والا تھا کہ مجھے شبہ ہوا کہ ہلکی سی کراہ دور سے سنائی دی ہے۔ اس جگہ زمین پہاڑی کے دو چوٹیوں کے درمیان نیم وادی کی شکل میں نیچے اتر رہی تھی اور یہ کراہ وہیں کسی نشیب سے آئی تھی۔
گڈریے کا نام تھِما تھا اور دونوں ہاتھوں سے منہ پر پیالہ سا بنا کر میں نے اس کا نام زور سے پکارا اور پھر جواب سننے کی کوشش کی۔ ہاں، اب کے صاف کراہ سنائی دی جو مدھم تو تھی مگر واضح بھی تھی۔ یہ آواز سامنے سے ہی آئی تھی۔
جھاڑیوں سے زورآزمائی کر کے میں نیچے اترا اور جگہ جگہ پتھروں پھر پھسلتے ہوئے اور کانٹوں میں الجھتے ہوئے راستہ طے کیا۔ دو سو گز بعد میں نے پھر آواز دی۔ کچھ دیر بعد دائیں جانب سے آواز آئی۔ اسی طرح میں آگے بڑھتا رہا اور آخرکار تھِما کو تلاش کر لیا جو ایک درخت کے نیچے اور اپنے خون کے تالاب میں پڑا تھا۔ اس کا چہرہ تار تار اور ہڈیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ اس کی زندگی کا واحد ثبوت اس کے منہ پر خون سے اٹھنے والے بلبلے تھے۔ مزید یہ بھی کہ ریچھ نے اس کے پیٹ پر پنجے مارے تھے جس کے سوراخ سے اس کی آنتیں نکلی ہوئی تھیں۔ جب میں نے اسے تلاش کیا تو وہ بمشکل ہوش میں تھا۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ اس نے میرے پکارنے پر کوئی جواب نہیں دیا تھا بلکہ وہ وقفے وقفے سے نیم بے ہوشی میں کراہ رہا تھا۔
صورتحال بہت نازک تھی۔ اگر یہ بندہ ساری رات یہیں پڑا رہتا تو صبح تک اس کا دم نکل جاتا۔ اس بندے کو اٹھا کر اس کے بھائی تک لے جانا ہی واحد حل تھا۔ مگر اسے کندھے پر ڈالنا بہت مشکل کام تھا کیونکہ اس کی حالت نازک تھی۔ مزید یہ کہ اس بندے کی جسامت بھاری تھی جو میرے برابر تھی۔ مگر اسے اٹھا کر میں نے رائفل کے کندے کا سہارا لے کر واپسی کا رخ کیا۔
اس خوفناک سفر کو میں دوبارہ کبھی نہیں کرنا چاہوں گا۔ میں چوٹی کے قریب پہنچا ہی تھا کہ حادثہ رونما ہوا۔ میرا بائیاں پیر پھسلا اور دو بڑے پتھروں کے درمیان آیا۔ میرے ٹخنے میں درد کی لہر اٹھی اور میں نیچے گرا اور تھِما میرے اوپر۔
میرے ٹخنے میں موچ آ گئی تھی اور چلنا ممکن نہ رہا۔ اس جگہ لیٹے ہوئے میں نے تھِما کے بھائی کو آوازیں دیں مگر ایک گھنٹہ گزر گیا مجھے کوئی جواب نہ ملا۔ مجبوری میں اس دم توڑتے انسان کے ساتھ رات گزارنی تھی۔
ٹارچ کے سیل بچانے کی نیت سے میں اسے کم استعمال کر رہا تھا۔ صبح کے قریب بہت سردی ہو گئی اور تھما کی کراہیں مدھم ہوتی گئیں۔ پانچ بجے صبح اس کی جان نکل گئی اور میں اس کے ساتھ چھ بجے تک بیٹھا رہا۔
پھر میں نے کھڑے ہونے کی کوشش کی مگر پیر زمین پر رکھنا مشکل ہو رہا تھا۔ رینگنے کی کوشش کی تو خاردار جھاڑیاں رکاوٹ بن گئیں۔ میرے ہاتھ اور میرا چہرہ زخمی ہو گئے اور کپڑے پھٹ گئے۔ جلد ہی میں نے اس حقیقت کو قبول کر لیا کہ مجھے یہیں رک کر امداد کا انتظار کرنا ہوگا۔
دوپہر کے بعد محکمہ جنگلات کے لوگ تھِما کے بھائی اور دس بارہ دیہاتیوں کے ہمراہ آن پہنچے۔ آخرکار میری آوازوں کی مدد سے وہ لوگ یہاں تک پہنچ گئے۔ شام کو ہم سیکرے پنٹہ پہنچے جہاں میں بستر پر لیٹا تو میرا پیر بہت سوج چکا تھا۔ ڈی ایف او نو بجے آیا اور میری کار چلا کر مجھے چک مگلور لے گیا جہاں ہسپتال سے طبی امداد لی۔ ایک ہفتے بعد جا کر میں زمین پر پیر رکھنے کے قابل ہوا۔ آپ کو اندازہ ہو چکا ہوگا کہ مجھے اس ریچھ کے خلاف کتنا غصہ جمع ہو گیا ہوگا۔ سو میں نے خود سے وعدہ کیا کہ جونہی چلنے کے قابل ہوا تو اس ریچھ کو فنا کر دوں گا۔
اس دوران ریچھ نچلا نہیں بیٹھا اور اس نے دو مزید لوگوں کو اُسی راستے پر زخمی کیا۔
جب میں بمشکل چلنے کے قابل ہوا تو چار روز بعد میں سیکری پنٹہ پہنچ گیا۔ یہاں مجھے بتایا گیا کہ ریچھ اب گاؤں سے ایک میل دور کھیتوں میں مٹرگشت کا عادی ہو چکا ہے جہاں کئی درختوں کا پھل پکنے والا ہے۔ پانچ بجے میں ان درختوں کو پہنچ گیا اور سب سے بڑے درخت کو منتخب کیا جس پر سب سے زیادہ پھل لگے تھے اور اس کے نیچے رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے درخت سے ٹیک لگا کر رائفل کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لیا۔
گیارہ بجے کے بعد مجھے ریچھ کا شور سنائی دیا جو بڑبڑاتا اور غراتا آ رہا تھا۔ جگہ جگہ رک کر وہ پھل کھاتا رہا اور میرے قریب آتا گیا۔ راستے میں کئی جگہ اس نے مختلف جڑیں بھی کھود کر نکالی تھیں۔ اسے اس درخت تک آتے ہوئے ایک گھنٹہ لگ گیا۔ آخرکار وہ سامنے آیا جو ستاروں کی روشنی میں کالا دھبہ دکھائی دے رہا تھا۔
میں نے ٹارچ کا بٹن دبایا اور روشنی کا دائرہ سیدھا ریچھ پر پڑا۔ ریچھ فوراً حیرت سے اپنی پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہوا اور میں نے اس کے سینے پر بنے وی کے نشان کے عین وسط میں گولی پیوست کر دی۔ اس طرح یہ برا ریچھ اپنے انجام کو پہنچا۔
ریچھ کو جلدی غصہ آ جاتا ہے مگر عام طور پر بے ضرر ہوتے ہیں۔ یہ ریچھ اپنی نسل سے مختلف تھا اور بغیر کسی وجہ کے انتہائی بےدردی سے لوگوں کو ہلاک کرتا رہا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
بہادر شاہ ظفر کی اردو غزل