- Advertisement -

زرد پتّوں کی اوٹ میں

حیات عبداللہ کا ایک اردو کالم

زرد پتّوں کی اوٹ میں

تلخ موسموں کی کڑواہٹ رگِ جاں میں گھل جائے تو پھر انسان خزاں رسیدہ پتّوں کی مانند بکھرتے چلے جاتے ہیں۔ جان کا عذاب بنے ایسے قہر آلود موسم اور شِکر دوپہریں لوگوں کو چُن چُن کر اپنا نوالہ بنانے لگتی ہیں۔سیکڑوں لوگوں کو اپنے پیٹ کی خوراک بنا لینے کے باوجود ان موسموں کی تندی اور تلخی میں کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔یہی وجہ ہے کہ تمام مناظر دکھوں سے لدے دکھائی دے رہے ہیں۔
دل کا موسم زرد ہو تو کچھ بھلا لگتا نہیں
کوئی منظر، کوئی چہرہ خوش نما لگتا نہیں
لیکن آج نہ سہی تو آنے والے ہفتوں میں موسم بدل ہی جائے گا۔ایک ہزار کے بجائے دو ہزار لوگوں کا لہو چوس کر ہی سہی، بالآخر موسم میں تبدیلی آ ہی جائے گی۔المیہ تو یہ ہے کہ موسموں کی خُو بُو اور رنگ ڈھنگ میں جتنی بھی تبدیلی آ جائے ہم اپنے نفس کو کسی طور بدلنے پر آمادہ نہیں۔خونیں رُتیں چاہے ہمارے گھروں کو اجاڑ ڈالیں، قہر آلود ماہ و سال چاہے ہماری بستیوں اور شہروں کی خوب صورتی اور رعنائیوں کو چاٹ جائیں، ہم اپنی سرشت بدلنے پر آمادہ ہی نہیں۔معلوم نہیں ہمارے دل کس پتھریلی مٹی کے بنے ہیں کہ چاہے کوئی ناگہانی آفت ہمارے دل، دماغ اور روحوں تک کو چھید ڈالے، ہم ہیں کہ سُدھر نے پر آمادہ نہیں ہوتے۔زرد موسم کراچی اور لاہور کے درجنوں خاندانوں کی آسودگیوں کو آنسوﺅں میں بدل گیا اور کورونا وبا کے بھیانک رُوپ میں حَبس زدہ رُتیں اپنے دانتوں کو کٹکٹاتی ہوئیں سیکڑوں افراد کو نگلے جا رہی ہیں۔یہ تمام موسم یقیناً بدل ہی جائیں گے۔لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ ہم خود کو بدلنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں؟ کتنے ہی سوالیہ نشان ذہنوں میں کلبلاتے ہیں کہ آخر اسباب و وجوہ کیا ہیں کہ ہم اپنے ربّ کی طرف مائل ہونے سے گریزاں ہی رہتے ہیں؟ کوئی بھی سانحہ آ جائے، وبائیں سرکشی پر اتر آئیں یا بلائیں ہمارے بچوں کو نگل جائیں،ہم گناہوں کی جس پاتال میں پہلے دھنسے تھے اب بھی عین اسی جگہ مطمئن اور مسرور ہیں۔ دیکھ لیجیے کتنے ہی عذاب ہماری امیدوں کو بہا لے گئے مگر ہم آج تک لاحاصل سراب سے باہر نہ آئے، کتنے ہی مصائب ہمارے دلوں میں آبلے ڈال چکے، مگر لوگوں کی اکثریت کل بھی اسلام کی حقیقی لذتوں سے کوسوں دُور بھاگتی تھی اور آج بھی اسی خوئے بد پر قائم ہے۔کیسے کیسے حادثوں نے دل دہلا دیے مگر یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی لرزیدہ قدم مساجد کی طرف نہیں اٹھتے۔میں نے کتنی ہی بار قبر کھودنے والے نوجوانوں کو قبر کے اندر بیٹھ کر خوش گپیاں کرتے دیکھا ہے۔الٰہی! ہمارے دلوں کو یہ کیا ہو چکا؟ یہ کیوں اس قدر بے حس ہو گئے کہ جس قبر کو دیکھ کر نبیِ مکرّم اور صحابہ کرامؓ کی ہچکیاں بندھ جاتی تھیں، آج ہم آزمایشوں کے جاں سوز سلسلے سے گزر کر ان قبروں میں بیٹھ کر بھی نم دیدہ اور سنجیدہ نہیں ہوتے۔کورونا کے مریضوں کی گلے میں اٹکتی سانسیں دیکھ کر بھی ہماری آنکھوں سے چند قطرے آنسوﺅں کے نہیں گرتے۔
کراچی سانحے میں مرنے والوں کی ذمہ داری جس پر ڈال بھی ڈال دی جائے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے خون آشام موسموں میں اجتماعی دعا و استغفار کی ضرورت ہوتی ہے۔موسموں پر تو کسی کا زور نہیں چلتا، یہ حقیقت اپنی جگہ درست سہی مگر ذرا اپنی سوچ اور فکر کو یہ رنگ اور آہنگ دے کر تو سوچیے کہ آخر ان آلام اور مصائب کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کے بعد ہم نے اپنے قول و عمل میں کتنی تبدیلیاں پیدا کیں۔کوئی بھی حکومتی اہل کار ہمیں اپنے ربّ کی طرف رجوع کرنے سے تو نہیں روک رہا۔کوئی بھی وزیر ہمارے اور اللہ کے درمیان تعلقات میں تو رخنے نہیں ڈال رہا۔کوئی بھی بیوروکریٹ اور اعلیٰ افسر ہمیں اللہ کے حضور رو رو کر حروف اعتذار ادا کرنے کی راہیں تو مسدود کرنے پر آمادہ نہیں۔حکمران جیسے بھی ہوں، ان کو دوش دینے سے پہلے ذرا ایک لمحے کے لیے توقف کر کے یہ جائزہ تو لے لیجیے کہ اتنے عذابوں کو دیکھ کر کتنی بار ہماری آنکھیں چھلکیں؟ ہم نے اپنے پالنہار سے کتنی دعائیں مانگیں؟ ہمارا یہ رویّہ بھی پختہ تر ہو چکا کہ اوّل تو ہم ان آزمایشوں کو دیکھ کر بھی اپنے خالق کی طرف مائل ہوتے ہی نہیں، اور بالفرض اگر کچھ لوگ اپنے اللہ سے استغفار کرتے بھی ہیں تو ان ہی گناہوں کی راہوں پر کھڑے کھڑے استغفراللہ کا ورد کرتے رہتے ہیں، ہم ان ہی مضمحل راستوں پر براجمان ہی معافیاں مانگتے رہتے ہیں۔ مدّعا اور مقصود یہی ہوتا ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے بھی باز نہ آئیں اور پروردگار کی رحمتوں کی برکھا بھی ہم پر چھم چھم برستی رہے۔ایسا تو مت کیجیے۔کیا ایسا کرنا توبہ اور استغفار کے ساتھ مذاق نہیں؟
یہ غضبناک دوپہریں، یہ حَبس آلود شامیں اور روحوں کو جھلسا دینے والی یہ گرم راتیں دراصل ہمیں من حیث المجموع اپنے اللہ کی طرف بلانے کا بہت بڑا پیغام ہیں۔بے حیائی اور بدکاری سے لے کر سودخوری تک، فرائض کے ترک سے لے کر غیبت، بہتان اور چغلی تک، کرپشن اور بدعنوانی سے لے کر لوٹ کھسوٹ تک وہ تمام گناہ جو ہمارے ایمان و ایقان کو برباد کر چکے ان کو مکمل اخلاص کے ساتھ ترک کر کے اپنے اللہ کے سامنے سرافگندہ و شرمندہ کھڑے ہو کر دعائیں مانگنا اور معافیاں طلب کرنا ہی ان سرکش موسموں کی اذیتوں سے نجات دلا سکتا ہے اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسی آفات جو نازل ہو چکی ہیں اور ایسی کہ جو ابھی تک نازل نہیں ہوئیں، دعا سب کے لیے فائدہ مند ہے، اس لیے اے اللہ کے بندو! دعا کو لازم پکڑو۔(ترمذی 3548)
سو اپنی آنکھوں میں خوف خدا کے آنسو سجا کر اور اپنے من میں احساسِ ندامت کے پھول مہکا کر اللہ کے سامنے دعاﺅں اور مناجاتوں کے سلسلے کو مستقل بنیادوں پر اپنی زیست کا حصّہ بنا لیجیے اور ایسے تمام امور کو ترک کر دیجیے جو اللہ کی ناراضی کا باعث ہوں اگر ہم سمجھیں اور غور کریں تو ان تلخ موسموں اور زرد پتّوں کی اوٹ میں یہی پیغام دکھائی دے رہا ہے۔
موسمِ زرد میں اک دل کو بچاؤں کیسے؟
ایسی رُت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں

حیات عبداللہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
سید محمد زاہد کا ایک اردو کالم