- Advertisement -

کچی خلقت اور دھگڑ باز عاشق

سید محمد زاہد کا ایک اردو کالم

کچی خلقت اور دھگڑ باز عاشق

” شیلا، دیکھو! میں سنبل کو ائیرپورٹ چھوڑنے جا رہی ہوں۔ صاحب ابھی سو رہے ہیں جب وہ جاگ جائیں، انہیں ناشتہ دے دینا۔“

”جی، بی بی جی، ٹھیک ہے۔ لیکن صاحب کب جاگیں گے؟“
”تقریباً جاگ ہی رہے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد دیکھ لینا۔“
” اور میرے آنے تک سارے کام بھی مکمل کر لینا۔“

اتوار کا دن تھا۔ باہر ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ سنبل چھٹیاں گزار کر واپس اپنی یونیورسٹی جا رہی تھی۔ بیٹا پہلے ہی ہوسٹل جا چکا تھا۔ شیلا ایک کرسچن لڑکی تھی، ہلکی سی سانولی رنگت کی۔ ہمارے ملک میں ہر رنگ کے لوگ ملتے ہیں۔ کالے سیاہ سے لے کر گورے چٹے تک۔

جب سے رنگ گورا کرنے والی کریمیں اور بلیچ سے سکن پالش کا طریقہ عام ہوا ہے چہرے اور ہاتھوں سے اصل رنگ کا پتا ہی نہیں چلتا۔ شیلا جیسی لڑکیاں جن کی رنگت پہلے ہی صاف تھی، جدید طریقوں نے ان کی جلد میں چمک لانے کے ساتھ معیار حسن کو ہی بدل دیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس دور نے لوگوں کو حسن کی حفاظت سکھا دی ہے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ ان مزدور پیشہ لڑکیوں کے کام کی نوعیت بھی ایسی ہوتی ہے کہ ان کے جسم گٹھے گٹھے اور مضبوط بن جاتے ہیں۔

ورزشی کام جسم کی بناوٹ اور خطوط کو ابھار دیتا ہے۔ گھریلو ملازمین عام طور پر بیگمات اور ان کی بچیوں کے غیر ملکی انڈرگارمنٹس اور آرٹیفیشل زیورات بھی مانگ کر پہن لیتی ہیں جو ان کے مضبوط کسرتی جسموں کی گولائیوں اور اتار چڑھاؤ کو زیادہ نمایاں کردیتے ہیں۔ یہ ان پر ایسے سجتے ہیں کہ محسوس ہوتا ہے شاید یہ سب اصل خریداروں کے لئے بنے ہی نہیں تھے۔

امسال ڈاکٹر عفت اپنی بیٹی کے لئے لبنان سے انڈر گارمنٹس اور لانزرے لائی تھی جو اسے پسند نہ آئے تو وہ شیلا کو مل گئے۔

واپسی پر عفت جب گھر میں داخل ہوئی تو وہ آئینہ رو تصویر بنی کھڑی تھی۔ کالے سیاہ گھنگھریالے کیسوں سے موتی ٹپک رہے تھے۔ ابھی ابھی نہا کر نکلی تھی۔ وہی کالا لانزرے پہنے گھوم گھوم کر خود کو دیکھ رہی تھی۔ تنا ہوا سینہ آگے کی طرف نکلا ہوا اور تھرکتے کولہے پیچھے کو ابھرے ہوئے۔ بید مجنوں کی طرح ڈولتی کمر کو کس کر ایسے باندھا ہوا تھا جیسے کسی مصور نے اس جگہ پر خط ندارد کا کھینچ دیا ہو۔ بازو تلوار کی طرح لہرا رہے تھے۔ عالم مستی میں اتنی بے خود تھی کہ اسے عفت کے آنے کا پتا ہی نہ چلا۔ وہ پہلے تو غصے سے اسے دیکھتی رہی پھر کچھ سوچ کر مسکراتی ہوئی واپس چلی گئی۔ کچن میں جا کر دیکھا تو سب کچھ ویسے ہی پڑا ہوا تھا۔ ڈاکٹر عفت غصے سے چلائی۔

”تم نے صاحب کو ناشتہ بھی نہیں دیا۔“
وہ بھاگتی ہوئی کچن میں آ گئی۔
”وہ ابھی سو رہے تھے۔“
” وہ تو کب کے جاگ رہے ہیں، تم ہی جوانی کے نشے میں مدہوش رہتی ہو۔“

شیلا کا خاندان اس گھر میں ایک عرصہ سے ملازم تھا۔ جب وہ ابھی گود میں ہی تھی اس کے ماں باپ گاؤں سے ان کے پاس آ گئے تھے۔ گھر کے پچھواڑے میں موجود دو کمروں کے کوارٹر میں ان کی رہائش تھی۔ سارا خاندان ایماندار اور نیک تھا۔ ماں گھر میں صفائی ستھرائی اور کپڑے لتے سنبھال لیتی۔ باپ گاڑی بھی چلا لیتا اور باہر اندر کے سارے کام بھی اس کے ذمہ تھے۔ شیلا نے اس سال میٹرک کا امتحان دیا تھا۔ آج کل چھٹیاں تھیں۔ وہ سارا سارا دن گھر میں ہی رہتی۔

کچن میں ماں کا ہاتھ بٹاتی اور فارغ وقت میں سٹنگ روم میں بیٹھی فلمیں دیکھتی رہتی۔ ڈاکٹر عفت اور اس کا میاں سارا دن گھر سے غائب ہی رہتے۔ وہ اور اس کی ماں ہی سارے گھر کو سنبھالے ہوئے تھیں۔ اگلے دن شیلا کی ماں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عفت نے کہا ”اب شیلا پڑھائی سے فارغ ہے اور کام پر بھی زیادہ توجہ نہیں دیتی۔“

ماں کہنے لگی ”مجھے اس کی فکر ہے۔ ابھی سولہ سال کی ہوئی ہے۔ وہ قد کاٹھ اور جسے سے بیس بائیس کی لگتی ہے۔ لڑکیاں ویسے بھی شرط باندھ کر تاڑ کے جھاڑ کی طرح پھیلتی ہی جاتی ہیں۔ کئی بار سوچتی ہوں کہ اس کی شادی کر دوں“

”لیکن ابھی تو وہ کچی عمر کی ہے، بچپنا ہے اس میں۔ ابھی شادی نہیں ہونی چاہیے۔“ ”میری بہن کا بچہ ہے۔ ادھر شہر میں ہی کسی دفتر میں کام کرتا ہے۔ بہن کئی بار پو چھ بھی چکی ہے۔“

”وہی جسے میں تمہارے گھرمیں ایک دو بار دیکھ چکی ہوں۔“
”جی ڈاکٹر صاحبہ، وہی۔“

”مجھے تو وہ کسی گن کا یا ڈھنگ کا نہیں لگتا۔ وہ ڈنڈ پیل چھوکرا عمر میں بھی کافی زیادہ ہے۔ چال ڈھال بھی اچھی نہیں۔ قدم بہکے بہکے پڑتے ہیں۔ ہماری شیلا تو اس سے بہت چھوٹی ہے۔ لڑکی سیانی ہو تبھی اسے ڈولی میں بٹھاتے ہیں۔ اس نے گھر بار سنبھالنا ہوتا ہے۔ ناشتہ تو صحیح طرح کروا نہیں سکتی۔ کچی ہنڈیا ہی دستر خوان پر برت دو گی تو سب باتیں بنائیں گے۔ میں تمہیں یہی کہنا چاہتی تھی کہ شیلا کو اس سے دور رکھو۔“

پھر ایک دن ڈاکٹر عفت اپنے کلینک پر بیٹھی مریض دیکھ رہی تھی کہ شیلا اس لڑکے کے ساتھ ایمرجنسی میں آ گئی۔ بہت بری حالت تھی۔ ”کیا کیا ہے، تم نے، اس کے ساتھ؟“

”میں نے تو پہلی بار ہی چھوا تھا۔ پتا نہیں کیا ہو گیا؟“

کافی خون ضائع ہوچکا تھا۔ لیکن اب حالت سنبھل چکی تھی۔ ایمرجنسی ٹریٹمنٹ دینے کے بعد اسے آپریشن تھیٹر میں منتقل کر دیا گیا۔ ڈاکٹر عفت نے ایک جونیئر کو بلا کر کہا کہ دیکھو کوئی زخم ہو گا۔ اب بلیڈنگ رک چکی ہے، اگر اب بھی کوئی مسئلہ ہو تو اسے دیکھ کر پیک کر دینا۔ کچھ دیر کے بعد ڈاکٹر عفت کو پیغام ملا کہ آپ ہی آ کر دیکھ لیں۔

”کیوں کیا بات ہے؟“ اس نے آپریشن تھیٹر میں پہنچ کر پوچھا۔
”میڈم! کوئی زخم نہیں ہے۔“
”تو پھر بلیڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے؟“
دونوں ڈاکٹرز نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا۔
جونیئر بولی ”میڈم! اسقاط مکمل ہو چکا ہے۔“

ڈاکٹر عفت نے اسے بلا بھیجا تووہ غائب ہو چکا تھا۔ وہ بڑبڑاتے اپنے کمرے کی طرف چل پڑی۔
”اوہ! یہ دھگڑ باز ہمیں بھی دھوکا دے گیا۔“

سید محمد زاہد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ناہید ورک کی اردو غزل