آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

سرِ کریک

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

سرِ کریک: دھمکیوں کا کھیل اور خطے کی سلامتی

حال ہی میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے گجرات کے فوجی اڈے کے دورے کے دوران کہا کہ، "اگر پاکستان نے سرِ کریک سیکٹر میں کوئی کارروائی کی تو اس کی تاریخ اور جغرافیہ دونوں بدل جائیں گے”۔ یہ بیان پاکستان کے خلاف ایک سخت پیغام کے مترادف ہے اور خطے میں کشیدگی کو بڑھانے والا ہے۔ ایسے بیانات نہ صرف تعلقات خراب کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی خطرناک تاثر دیتے ہیں۔

سرِ کریک ایک چھوٹا سا ساحلی علاقہ ہے جو پاکستان کے صوبہ سندھ اور بھارت کے گجرات کے درمیان واقع ہے، مگر اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ یہ علاقہ سمندر تک رسائی، ماہی گیری، اور ممکنہ تیل و گیس کے ذخائر کی وجہ سے حساس ہے۔ بھارتی وزیر دفاع نے واضح کیا کہ "کراچی جانے والا ایک راستہ سرِ کریک سے گزرتا ہے”، جس سے اس علاقے کی اسٹریٹجک اہمیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔

تاریخی طور پر سرِ کریک 1947 سے متنازعہ ہے۔ پاکستان اسے 1914 کے معاہدے کی بنیاد پر اپنا حصہ سمجھتا ہے، جبکہ بھارت بین الاقوامی سمندری قوانین کے تحت اپنی حد بندی کا دعویٰ کرتا ہے۔ 1914 کا یہ معاہدہ بمبئی حکومت کے فیصلے کے طور پر درج ہے، جس کا مقصد سندھ اور کچھی ریاست کے درمیان سرحدی تنازعہ کو حل کرنا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سرِ کریک کے مشرقی کنارے کو سرحد تسلیم کیا جائے۔ بھارت اس فیصلے کے ایک اور پہلو کو بنیاد بنا کر یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ چونکہ سرِ کریک ایک نیویگیبل ندی ہے، اس لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق سرحد اس کے وسطی حصے (thalweg) سے ہونی چاہیے۔ اس قانونی پیچیدگی نے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

مزید برآں، بھارت نے 1925 کے نقشے اور 1924 میں نصب کردہ "مڈ چینل” ستونوں کو بھی اپنی پوزیشن کی حمایت میں پیش کیا ہے۔ پاکستان ان ستونوں کو تسلیم کرتا ہے، مگر ان کا اطلاق صرف غیر جزر والے دریاؤں پر سمجھتا ہے، نہ کہ جزر و مد والے ندیوں پر۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سرِ کریک کا تنازعہ صرف ایک معاہدے یا تاریخی فیصلے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل قانونی اور جغرافیائی مسئلہ ہے، جس کے حل کے لیے دونوں ممالک کو باہمی بات چیت اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں آگے بڑھنا ہوگا۔

میری رائے میں، سرِ کریک کے مسئلے کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہی سب سے مؤثر راستہ ہے۔ سخت بیانات اور دھمکیوں سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اس علاقے میں اپنی خودمختاری کا دعویٰ کیا ہے اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے، اور یہ رویہ عالمی قوانین اور مشترکہ مفادات کے مطابق بھی درست ہے۔

سرِ کریک صرف ایک چھوٹا سا ساحلی علاقہ نہیں، بلکہ یہ دونوں ممالک کے لیے اسٹریٹجک، اقتصادی اور سیاسی اہمیت کا حامل ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا فوجی کارروائی دونوں ممالک کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں اور دھمکیوں یا جارحانہ بیانیے سے گریز کیا جائے۔

سرِ کریک ایک مثال ہے کہ چھوٹے علاقے بھی عالمی سیاست میں بڑے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ میری رائے میں، امن اور تعاون کے راستے اختیار کرنے سے ہی کشیدگی کم ہوگی اور عوام کو یہ پیغام جائے گا کہ مضبوطی اور طاقت صرف دھمکیوں سے نہیں بلکہ بات چیت اور باہمی اعتماد سے حاصل کی جاتی ہے۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button