- Advertisement -

کوئی ایسا سبب نہیں ہوتا

ایک اردو غزل از ساحل سلہری

کوئی ایسا سبب نہیں ہوتا

ذکر بھی تیرا اب نہیں ہوتا

زندگی منقسم سی رہتی ہے

تُو مرے پاس جب نہیں ہوتا

روح سے روح کا ہے سلسلہ عشق

اِس میں نام و نسب نہیں ہوتا

اُس کو بھی آرزو نہیں میری

مَیں بھی دستِ طلب نہیں ہوتا

ہر گھڑی دِل پکارتا ہے تجھے

تو تصور میں کب نہیں ہوتا

جس غزل میں نہ ذکرِ جاناں ہو

وہ ادب کچھ ادب نہیں ہوتا

لوگ اُلجھے ہوئے ہیں سورج سے

یعنی اب ذکرِ شب نہیں ہوتا

ساحل سلہری

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از ساحل سلہری