عجب کرپشن کی غضب کہانی
ایک مزاحیہ تحریر از واجد علی گوہر
نادان ادھاری مہاجر میرٹھی جب سے ریلوے کی سکیل گیارہ کی نوکری سے مالی بدعنوانی کے جرم میں برخاست ہوکر آئے ہیں ، تب سے اُن کا ضمیر جو خوابِ خرگوش کے مزے لے رہا تھا وہ اچانک جاگ پڑا ہے ۔ اس آخری عمر میں ضمیر کا جاگنا کیا کم مصیبت تھا کہ اوپر سے ملک کے سب سے بڑے چور”اہے” پر بیٹھک لگا کر رہبرِاشرافیہ ، ننگ انسانیت، کلاہِ کج فہمی کو سر پر سجانے والے ، محنت کش طبقات پر بھڑاس نکال کر ضمیر کی آگ بجھانے والےاور اس مردہ قوم کی مردہ غیرت کو صور پھونک کر جگانے کی کوشش کرنے والے جناب بھڑاس چوراپا صاحب کی مجلس میں بھی بیٹھنا شروع کردیا ہے جس کے بعد اب جہاں بھی اور جب بھی کہیں جاتے ہیں اُنہی موصوف کے تتبع میں فلسفیانہ انداز کے ساتھ اس جاہل، نکمی، ہڈ حرام اور تہذیب سے عاری عوام کو تیزاب سے غسل دینے کی بات کرتے نظر آتے ہیں ۔ہم محلے داروں کو جب بھی خبر ملتی ہے یہی پتہ چلتا ہے کہ موصوف نے آج پھر علمِ بغاوت بلند کرتے ہوئے بازار میں کسی سبزی فروٹ والے، رکشے والے یا دیہاڑی دار مزدور کو سو دو سو روپے کی ” بہت بڑی کرپشن "کرتے ہوئے رنگے ہاتھوںپکڑ کر اُنہیں محکمہ اینٹی کرپشن کے حوالے کرنے کا ایک نیا شاندارکارنامہ سرانجام دیا ہے۔بات یہیں تک نہیں رکتی بلکہ موصوف اُس کے بعد سوشل میڈیا پر اپنے اکاؤنٹ سے قومی نشریاتی رابطے پر بصری پیغام نشر کرکے قوم کو یہ مژدہ جانفزا ایک عجب شان تفاخرانہ کے ساتھ دیتے ہیں کہ وہ ان قومی مجرموں کو اینٹی کرپشن کے ہاتھوں گرفتار کرواکر پھر اُنہیں نشان عبرت بنو اکر اس غریب اور دکھیاری قوم کی کتنی بڑی خدمت کر رہے ہیں ۔ آپ کے تازہ ترین بصری پیغام کے مطابق اب تک آپ اپنے شہر بد حال پورہ سے ان ریڑھی بانوں، رکشے چلانے والوں اور چھوٹے موٹے مزدوروں کی کرپشن کو بے نقاب کرکے ان سے لوٹی ہوئی دولت جس کا تخمینہ تقریبا چار ہزار آٹھ سو چھیانوے روپے بنتا ہے وہ قومی خزانے میں جمع کرواچکے ہیں۔ یہ وہ قومی دولت تھی جس پر قوم کاحق تھا جسے یہ غاصب طبقہ اپنے ناجائز ہتھکنڈوں کے ذریعے ہتھیا کر اپنے جیبوں میں بھر رہا تھا۔ ان حرام خوروں ، بے حس مردار خوروں اور بے ضمیر منافقوں کی وجہ سے آج قوم کا بچہ بچہ قرض کے وبال میں جکڑا ہوا ہے اور ملک کی پچاس فیصد سے زائد عوام خطِ غربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پہلے جو ہو گیا سو ہوگیا کیونکہ مجھے علم نہیں تھا کہ کرپشن کے بے تاج بادشاہ تو ہماری عین ناک کے نیچے کام کر رہے ہیں۔ لیکن اب ! اب ایسا نہیں ہوگا۔ اب انصاف ہوگا اور ضرور ہوگا۔ ہم ان لوٹنے والے ریڑھی بانوں، رکشہ ڈرائیوروں اور دیہاڑی دار مزدوروں کا احتساب کرنے نکلے ہیں۔ اور اس مرتبہ یہ احتساب یکساں اور مساوی بنیادوں پر ہوگا جو آپ کو ہوتا ہوا نظر آئے گا اور آپ لوگ گواہی دیں گے کہ یہی ہے وہ احتساب جس کا خواب دیکھتے دیکھتے ہمارے آباء و اجداد قبروں میں جا پڑے۔
مجھے سچ پوچھیے تو ان کے افکار سے والہانہ محبت اور اُن کے جذبہ حب الوطنی سے شدید قلبی لگاؤ ہے جس کی وجہ سے میری نظر میں اُن کا احترام بہت زیادہ ہے۔تاہم ایک دن میں نے ” خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے” کے تحت سہمے سہمے سے انداز میں اتنا عرض کیا کہ حضور ! آپ ان ریڑھی بانوں اور دیگر مگر مچھوں پر تو ہاتھ صاف کر رہے ہیں جو کہ عین وقت کا تقاضا اور قومی ضرورت ہے مگر کبھی تھانے کچہری ، عدالت ، آڑھت منڈی ، زمینوں سے متعلق محکمہ جات اور دیگر سرکاری مقامات کی بھی سیر کیجیے ، کیونکہ سنا ہے وہاں بھی چھوٹی موٹی کرپشن کے کیس کبھی کبھی سننے کو مل جاتے ہیں۔ میری بات سُن کر ایک لمبی سی سرد آہ بھری گویا ” سرہانے میر کے آہستہ بولو” اور پھر غمگیں لہجے اور شکستہ دل کے ساتھ مجھے شعور کی دولت سے سرفراز کرتے ہوئے فرمایا، ” میرے بدحال پورے کے نادان دوست اور کوچہ ناہندگان کے نا سمجھ بچے! اس کا مطلب آپ بھی پروپیگنڈے کا شکار ہیں۔ اور وہی سوچ رکھتے ہیں جو اس بے شعور سماج کے دیگر افراد کی ہے”۔ میرے لئے یہ خاصے اچنبھے کی بات کی تھی۔ چنانچہ میری حیرانگی دور کرتے اور میرے علم میں اضافہ کرتے ہوئے فرمایا،” اول تو وہاں کرپشن کے اکا دکا واقعات ہی سامنے آتے ہیں اور وہ بھی سال میں ایک آدھ مرتبہ ، جن کو بتانے والا خود مشکوک ہوتا ہے اور محض چرب زبانی و مبالغہ آرائی کا سہارا لیکر وہاں بیٹھے سفید پوش حضرات کے سفید کپڑوں پر کرپشن کے بدنما داغ لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ جبکہ حقیقت اس سے کہیں الگ ہے جس کا تمہیں بالکل بھی علم نہیں”۔ اس موقع پر میں نے اپنی لاعلمی کا صاف صاف اقرار کیا جسے سُن کر وہ بہت خوش ہوئے اور مجھے سمجھانے کے انداز میں کہنے لگے،” تم نے کبھی اُن لوگوں کے دکھ کو سنا ہے؟ کیا تمہیں اُس سوسائٹی کے مسائل کا علم ہے کہ وہ کس مصیبت کی چکی میں پس رہے ہیں؟ اگر تم اُن لوگوں سے بات چیت کرو تو تمہیں اندازہ ہو کہ وہ کس قدر دکھی لوگ ہیں جن کی مدد کرنے کا ہمیں کبھی خیال نہیں آیا”۔
” مگر کیسے۔ اُنہیں کون سے ایسے دکھ ہیں جو نہ بتائے جا سکتے ہیں نہ دکھائے جا سکتے ہیں؟”۔
” کسی کے پاس سال گزر گیا مگر نئے ماڈل کی گاڑی نہ آسکی اور وہ بد ستور پچھلے ماڈل کی گاڑی میں با امرِ مجبوری سفر کر رہا ہے اُس کا دکھ ہے۔ کسی کا بچہ سرکاری خرچ پر باہر پڑھائی کے بہانے سیٹل ہونے کیلئے ابھی تک نہیں جاسکا یہ دکھ ہے۔ کسی کا گھر پانچ سال پرانا ہے اور وہ اُس کو گرا کر دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق ابھی تک نیا گھر نہیں بنا سکا یہ دکھ ہے۔ کوئی اس بات پہ غمگین ہے کہ اُس کی بیگم نے تین ماہ پرانا موبائیل رکھا ہوا ہے اور نئے ماڈل کا موبائیل ابھی تک کسی نے گفٹ نہیں کیا۔ کوئی اس غم میں گھلا جا رہا ہے کہ پچھلے سال بھی گرمی کی چھٹیاں دبئی میں گزریں تھیں اور اس بار ابھی تک کوئی اللہ کا بندہ یورپ کی سیر کروانے والا نہیں پھنسا۔کوئی کچہری میں دنگے فساد کے کم کیس آنے پر غم کی تصویر بنے ماتم کر رہا ہے تو کوئی کسی عالیشان سوسائٹی میں ابھی تک کمرشل پلاٹ نہ ملنے پر پیچ و تاب کھا رہا ہے۔ الغرض غم ہی غم اور دکھ ہی دکھ ہیں میرے بچے۔ ایسے غمگین لوگوں کو کرپشن کے کیسز میں الجھا کر ان سے بد دعائیں لینے کی بجائے ان کے رنج و الم کو راحت و آسانی میں بدلنے کیلئے دعاؤں کی ضرورت ہے میرے نادان برخوردار۔ یہ بیچارے اگر کرپشن کر بھی لیں تو کتنی کرلیں گے۔ یقین جانو ان کی کرپشن تو کرپشن ہے ہی نہیں۔ اصل کرپٹ تو وہ ہیں جو تین اچھے سیبوں کے ساتھ ایک گلا سڑا سیب دے دیتے ہیں۔ جہاں پچاس روپے کرایہ بنتا ہے وہاں ستر لیتے ہیں اور دیہاڑی لگاتے ہوئے دو کی بجائے تین بار چائے پیتے ہیں۔ تم اگر دونوں طبقوں کی کرپشن میں تناسب کا حساب لگاؤ تو زمین آسمان کا فرق ہے میرے بچے۔ کہاں یہ معمولی سی سرکاری کرپشن اور کہاں وہ کرپشن کے پہاڑ۔ تم ان فضول باتوں پہ مطلق دھیان نہ دیا کرو بلکہ ہم جیسے اربابِ علم و دانش کے ہم جلیس بن کر ان لوٹنے والے قومی مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچاؤ”۔ پھر میری بھرپور فرمائش پر بھڑاس چور” اہی ” صاحب کی لکھی نظم سنائی۔ میرے ساتھ آپ بھی اس نظم کو پڑھیے اور سر دھنیے۔
” اب راج کرے گی خلق خدا”، ہر شودر جائے گا پسِ زنداں
پھر دیکھیں گے ہم وہ روشن سحر، ہوگا ہر مزدور جیل کے اندر
کیا سبزی والا کیا مرغی والا، پڑے گا سب کی دکانوں پہ تالا
پھر چمکے گا ہر سیٹھ کا تارا، ہر ہولڈر کمائے گا سال سارا
پھر موج میں طغیانی آئے گی، یہ قوم تیزاب سے دھلوائی جائے گی
پھر یں گے دن اب بینکار کے، اجیارا ہواگا صحن میں ساہوکار کے
، ہم غربت مٹانے نکلے ہیں ، چیخوں کو دبانے نکلے ہیں
بچہ شودر کا بچ نہیں پائے گا، اشرافیہ کو چھیڑا نہیں جائے گا
غربت پہ لگے گا جرمانہ، اشراف کو ملے گا آب دانہ
"ہمتِ مرداں مدد ِ خدا، اب راج کرے گی خلقِ خدا” ( تخلیق واجد علی )
میں جیسے ہی اٹھنے لگا تو میرا دامن پھر پکڑ کے بٹھا لیا اور بولے،” یاد رکھو بیٹا!ہمیں اپنا دھیان ان چھوٹے طبقوں پر رکھنا ہوگا کیونکہ یہی اصلی اور بڑے مگرمچھ ہیں جن کو کٹہرے میں لاکر ان کا احتساب کرنا اشد ضروری ہے۔ اب اگر کبھی ایسا کوئی بھی رکشے والا دیکھو جس کے پاس تین سال کے بعد نیا رکشہ آگیا ہے تو اُسے پکڑ لو گریبان سے اور پوچھو، کیوں بے! بتا تین سال کے بعد یہ نیا رکشہ کیسے آگیا۔ میں نے تین سال میں نیا بچہ نہیں پیدا کیا اور تو نیا رکشہ لے آیا۔ چور، کرپٹ، راشی! تیری یہ ہمت کہ تو کرپشن کرے اور اُس کرپشن کے مال سے تین سال بعد نیا رکشہ خریدے”۔ میں نے اُن کی اس بات سے مکمل اتفاق کیا اور گھر واپس آگیا۔
واجد علی گوہر








