آپ کا سلاماردو شاعریاردو نظمذوالقرنین حسنی

ناگزیر

ذوالقرنین حسنی کی اردو نظم

” ناگزیر”

جونک بن کے خرابے میں
خواہش کے جوہڑ میں اتری ہوئی
ایک ہرنی سے لپٹے ہوئے خون پیتا رہوں
ہاں وہی ہرنی جو سبز رت میں فراوانئ رزق سے
ڈنٹھلوں میں اترتی خماری سے مدہوش ہوتی رہی ہو
اور اپنی طبیعت کے افتاد سےتھوڑی فربہ بھی ہو
رنگ بھرتا رہوں کاسنی گیروی زرد یا احمریں
کینوس پہ بکھرتی تھرکتی ہوئی ایک تصویر میں
جو مسلسل نگاہی سے دشوار ہو
یعنی میری توجہ کے بھاری ہتھوڑوں سے بیزار ہو
پھر وہ بانہیں نکالے مجھے بھینچ لے
تیز رندے کی صورت کترنے لگے
ہاتھ کی انگلیاں آنکھ کی پتلیاں
میں برادہ برادہ بکھرنے لگوں استعارہ بنوں
اور تخیل کے جوہڑ سے نکلی ہوئی ایک انجان
ہرنی کا چارہ بنوں
جو مجھے پوری رغبت سے چرنے لگے
اپنی امید کا پیٹ بھرنے لگے

ذوالقرنین حسنی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button