- Advertisement -

اب خوف کھا رہے ہیں ہماری اڑان سے

شاہد عباس ملک کی ایک اردو غزل

اب خوف کھا رہے ہیں ہماری اڑان سے
وہ لوگ جن کی دو ستی تھی آسمان سے

لڑنا سکھایا ہم نے جنہیں ظلمتوں کے ساتھ
ہم کو ڈرا رہے ہیں وہی امتحان سے

تنہائیاں ، اداسیاں ، برسوں کے رتجگے
نکلے گا میرے بعد یہی کچھ مکان سے

ہم ایسے لوگ اپنے ہی حق میں نہیں میاں
شکوے شکایتیں ہی رہیں مہربان سے

مجھ کو اٹھا کے دوست نشانے پہ رکھ ذرا
نکلا ہوا ہے تیر کسی کی کمان سے

پتھر بچارا موم تو ہونے سے اب رہا
کہنے کا کیا ہے کہہ دوں میں اپنی زبان سے

شاہد چراغ اپنا بجھانے کی دیر تھی
سب دوست اٹھ کے چل دیے ہیں درمیان سے

شاہد عباس ملک

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
شاہد عباس ملک کی ایک اردو غزل