آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفرید احمد

تکلّم صد ملامت خیز سے

فرید احمد کی ایک اردو غزل

تکلّم صد ملامت خیز سے مت زخم کاری کر
تجھے مقصود ہو گر غمگساری، غمگساری کر

بہت غوغا سنا مطرب تری رنگیں نوائی کا
مرے ویرانہء دل میں بھی کچھ فصلِ بہاری کر

بجز افسونِ چشمِ بے بصر کچھ بھی نہیں دنیا
سکونت گہ برائے نام کی لمحہ شماری کر

جہانِ نو ملا تجھ کو خطائے فاش کے بدلے
مٹا دے داغِ دیرینہ یہاں یوں خاکساری کر

مُکافاتِ عمل ہے تُو جسے تقدیر کہتا ہے
فریبِ وصفِ ناقص میں نہ سنگِ زیست بھاری کر

اگر ہے آرزو تیری تُرابِ تن بنے گوہر
تو اعصابِ شکستہ پر خمارِ عجز طاری کر

سرائے رہ میں رختِ جاودانی رائگانی ہے
یہاں اے عاقل و دانا فقط تُو شب گزاری کر

او لطفِ خاص چہ گفتم چوں در ہنگامِ صحبت بود
میسّر باز گر آید گرفتش اُستواری کر

ابھی زیرِ زمیں تخمِ سخن ہے، کر نگہبانی
ابھی کِشتِ تخیّل کی فرید اور آبیاری کر

فرید احمد

post bar salamurdu

فرید احمد

فرید احمد دیو - قلمی نام : فرید احمد - ڈالووالی سیالکوٹ پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button