ابنِ انشاءاردو نظمشعر و شاعری

شہرِ دل کی گلیوں میں

ابن انشاء کی ایک اردو نظم

شہرِ دل کی گلیوں میں
شام سے بھٹکتے ہیں

چاند کے تمنائی!

بے قرار سودائی
دل گداز تاریکی

روح جاں کو ڈستی یے
روح و جاں میں بستی ہے
شہرِ دل کی گلیوں میں

تاک شب کی بیلوں پر
شبنمیں سر شکوں کی
بے قرار لوگوں نے
بے شمار لوگوں نے
یاد گار چھوڑی ہے
اتنی بات تھوڑی یے

صد ہزار باتیں تھیں
حیلۂ شکیبائی
صورتوں کی زیبائی
قامتوں کی رعنائی
ان سیاہ راتوں میں
ایک بھی نہ یاد آئی
جا بجا بھٹکتے ہیں
کس کی راہ تکتے ہیں

چاند کے تمنائی
ہی نگر کبھی پہلے
اس قدر نہ ویراں تھا
کہنے والے کہتے ہیں
قریہ نگاراں تھا
خیر اپنے جینے کا
ہی بھی ایک ساماں تھا

آج دل میں ویرانی
ابر بن کے گھر آئی
آج دل کو کیا کہیے
با وفا نہ ہرجائی
پھر بھی لوگ دیوانے
آ گئے ہیں سمجھانے

اپنی وحشت دل کے
بن لیے ہیں افسانے
خوش خیال دنیا نے
گرمیاں تو جاتی ہیں
وہ رتیں بھی آتیں ہیں
جب ملول راتوں میں
دوستوں کی باتوں میں
جی نہ چین پائے گا
اور اوب جائے گا
آہٹوں سے گونجے گی
شہرِ دل کی پہنائی
اور چاند راتوں میں
چاندنی کے شیدائی
ہر بہانے نکلیں گے
آزمانے نکلیں گے
آرزو کی گھرائی
ڈھونڈنے کو رسوائی
سرد سرد راتوں کو
زرد چاند بخشے گا
بے حساب تنہائی
بے حجاب تنہائی
شہرِ دل کی گلیوں میں!

ابن انشاء

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button