- Advertisement -

کار دل اس مہ تمام سے ہے

میر تقی میر کی ایک غزل

کار دل اس مہ تمام سے ہے
کاہش اک روز مجھ کو شام سے ہے

تم نہیں فتنہ ساز سچ صاحب
شہر پرشور اس غلام سے ہے

بوسہ لے کر سرک گیا کل میں
کچھ کہو کام اپنے کام سے ہے

کوئی تجھ سا بھی کاش تجھ کو ملے
مدعا ہم کو انتقام سے ہے

کب وہ مغرور ہم سے مل بیٹھا
ننگ جس کو ہمارے نام سے ہے

خوش سرانجام وے ہی ہیں جن کو
اقتدا اولیں امام سے ہے

عر میرے ہیں سب خواص پسند
پر مجھے گفتگو عوام سے ہے

شیطنت سے نہیں ہے خالی شیخ
اس کی پیدائش احتلام سے ہے

سر جھکائوں تو اور ٹیڑھے ہو
کیا تمھیں چڑ مرے سلام سے ہے

سہل ہے میر کا سمجھنا کیا
ہر سخن اس کا اک مقام سے ہے

میر تقی میر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
میر تقی میر کی ایک غزل