- Advertisement -

رکھتا تھا ہاتھ میں سررشتہ بہت سینے کا

میر تقی میر کی ایک غزل

رکھتا تھا ہاتھ میں سررشتہ بہت سینے کا
رہ گیا دیکھ رفو چاک مرے سینے کا

اے طپش لوہو پیے میرا جو تو جھوٹ کہے
کس سے یہ قاعدہ سیکھا ہے لہو پینے کا

اس میں حیران ہوں کس کس کا گلہ تجھ سے کروں
بدگمانی کا تغافل کا ترے کینے کا

میر کی نبض پہ رکھ ہاتھ لگا کہنے طبیب
آج کی رات یہ بیمار نہیں جینے کا

میر تقی میر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
میر تقی میر کی ایک غزل