- Advertisement -

پیڑوں نے دھوپ سر پہ ہے

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

پیڑوں نے دھوپ سر پہ ہے یونہی دھری ہوئی
بیکار تجھ ہوا کو ہے سوجن چڑھی ہوئی

ممکن ہے روپ سانپ کا اک روز دھار لے
رستے میں جو پڑی ہے یہ رسی جلی ہوئی

پتھر پہ میں ہتھیلی رگڑنے کا منتظر
اور تجھ کو روشنی کی ہے عجلت پڑی ہوئی

مہنگا پڑے گا قبر سے کائی اکھاڑنا
آواز دے گی ایک محبت مری ہوئی

پگھلے گی اختیار کے جلتے چراغ سے
جبڑوں میں برف صبر کی کب سے جمی ہوئی

یوں ہے کہ خامشی کی نہ چمڑی ادھیڑ دے
یوں ہے کہ آگ شہرِ صدا میں لگی ہوئی

ارشاد اب اندھیرا کھرچتی ہے رات بھر
آنکھوں کو انتظار کی عادت پڑی ہوئی

ارشاد نیازی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از ارشاد نیازی