آپ کا سلاماردو نظمبشریٰ شہزادیشعر و شاعری

سوداگری

بشریٰ شہزادی کی ایک اردو نظم

سوداگری "” "”

لاش ہے

لاش ؟؟ کتنے کی ہے ؟؟؟

چھ روپے سولہ آنے

چھ روپے سولہ آنے ؟؟؟؟ رعایت تو کر

کیا رعایت کروں ؟

دو روپے کی دو آنکھیں ہیں تازہ ہیں بالکل نئی
سر کچل آنکھیں باہر نکال
اک روپے کا جگر ہے

جگر؟؟
؟؟ ؟؟

ہاں جگر یہ بڑے کام کا ہے
یہ لے چاقو پکڑ

کیا کروں ؟؟؟ کیا کروں یہ بتا !!!

اس کے سینے پہ رکھ وسط میں چیر دے
چیر کر دل نکال

اور یہ پھیپھڑے ؟؟؟

پھیپھڑے !! لا دکھا ،،یہ سڑے پھیپھڑے تو شرابی کبابی کے ہیں
چیل کووں کو دے یا تو کتوں کو ڈال
اور سن یاد رکھ کہ خدا نے کوئی چیز بیکار پیدا نہیں کی

اچھا یہ کل ملا کے ہوئے دو روپے ایک اور ایک دو،
اور باقی کے دو ؟

دو روپے کے دو گردے بھی ہیں
سولہ آنے کا مردے میں کچھ بھی نہیں

کچھ نہیں ؟؟؟
تو میں کاہے کو دوں ؟؟

سولہ آنے تو انسانیت کی ہی قیمت لگائی گئی ہے
نصف یعنی کہ اٹھنی ہے ایمان کی

آٹھ آنے کا ایمان ہے آٹھ آنے کی انسانیت ؟؟
تف ہے تف

ہاں مگر تم کو کیا ؟ ہم کو کیا ؟؟

اچھا سن
اک جواں سال عورت کا مردہ بدن چاہئے تازہ ہو

کس لئے؟؟ ؟؟ ؟؟

تو نہیں جانتا مرد کیوں مانگتا ہے بھلا عورتیں ؟؟
زندہ عورت بھی بکتی ہے لیکن دلالی کی قیمت بہت زیادہ ہے
بول ہے ؟؟؟

ہے مگر وہ جواں تو نہیں ہے ابھی بچی تھی ،،مر گئی !!

خیر ہے کام چل جائے گا
لا ادھر دے مجھے،، یہ پکڑ چھ روپے سولہ آنے پکڑ

"چھ روپے سولہ آنے پلس دو روپے ایکسڑا ”

ایکسڑا کس لئے ؟؟؟ ؟؟؟ دین ایمان ہے ؟؟؟ ؟؟؟
چھ روپے سولہ آنے سے دھیلا بھی اوپر نہیں دوں گا میں !!

چل نکل بحث نا کر دو اعضاء اضافی ہیں اس جسم میں
ان چھوئے( زیرو میٹر )
رکھ ادھر اپنی قیمت
یہ مردہ بدن اپنی خلوت میں لا نوچ کھا
اور بدبو کے بھبھکے نکلنے سے پہلے تلک عیش کر !!!..

بشریٰ شہزادی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button