آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریلطیف ساجد

سرسری خواب کی تکميل اٹھا لائے ہیں

لطیف ساجد کی ایک اردو غزل

سرسری خواب کی تکميل اٹھا لائے ہیں
دشت والے ہیں مگر نیل اٹھا لائے ہیں

آپ کو آگ بجھانے کے لیے بھیجا تھا
آپ نقصان کی تفصیل اٹھا لائے ہیں

زندگی خانہ بدوشوں کی کوئی حالت تھی
ہم تجھے پھر بھی کئی میل اٹھا لائے ہیں

پھول ہوتے ہیں امر پیر پکڑ کر اس کے
لوگ کس چیز کی تمثیل اٹھا لائے ہیں

میں نے پریوں کو بلانے کے لیے بھیجے تھے
کچھ کبوتر تو یہاں جھیل اٹھا لائے ہیں

عشق مذہب کی ضمانت نہیں مانگا کرتا
آپ تو ہاتھ میں انجیل اٹھا لائے ہیں

میں ابھی نیند بنانے میں لگا ہوں ساجد
لوگ تو خواب کی تشکیل اٹھا لائے ہیں

لطیف ساجد

post bar salamurdu

لطیف ساجد

لطیف ساجد پانچ اگست انیس سو اسی کو ونیکے تارڑ حافظ آباد میں پیدا ہوئے، دو ہزار ایک میں بطورِ سولجر آرمی میں بھرتی ہوئے دو ہزار تین میں کمانڈو کورس کے بعد ایس ایس جی چلے گئے تین سال صدر پرویز مشرف کی پرسنل سیکورٹی میں ڈیوٹی کے یو این مشن افریقہ چلے گئے ریٹائرمنٹ کے بعد حافظ آباد ذاتی کاروبار کر رہے ہیں،بچپن سے شعر کہہ رہے ہیں دو ہزار اکیس میں پہلا شعری مجموعہ دعا زاد کے نام شائع ہوا جس شمار دور حاضر کے اہم شعری مجموعوں میں ہوتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button