آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریلطیف ساجد

زہے نصیب اگر پانچ سات کرتے ہیں

لطیف ساجد کی ایک اردو غزل

زہے نصیب اگر پانچ سات کرتے ہیں
ہمارے ساتھ تو سب لوگ ہاتھ کرتے ہیں

تھکن کا بھوت رہے گا سوار ذہنوں پر
کہیں پہ بیٹھ سہولت سے بات کرتے ہیں

سو حکم دیتے ہیں خیمے کلوز کرنے کا
نئی سپاہ پہ کچھ تجربات کرتے ہیں

کسی کے خواب کوئی دوسرا نہ لے جائے
بچھڑتے وقت بڑی احتیاط کرتے ہیں

عبور کرتے ہیں ایسے فقیر چوکھٹ کو
کہ جیسے اہل سخا پل صراط کرتے ہیں

ہماری جان چھڑا دیجئے اداسی سے
سنا ہے اپ بڑے عملیات کرتے ہیں

عجب نہیں کہ یہ دکھ یادگار بن جائے
کسی کے نام اداسی کی رات کرتے ہیں

یہ لوگ سبز پہاڑوں کی جان ہیں ساجد
بڑے رچاؤ سے "شینا” میں بات کرتے ہیں

لطیف ساجد

post bar salamurdu

لطیف ساجد

لطیف ساجد پانچ اگست انیس سو اسی کو ونیکے تارڑ حافظ آباد میں پیدا ہوئے، دو ہزار ایک میں بطورِ سولجر آرمی میں بھرتی ہوئے دو ہزار تین میں کمانڈو کورس کے بعد ایس ایس جی چلے گئے تین سال صدر پرویز مشرف کی پرسنل سیکورٹی میں ڈیوٹی کے یو این مشن افریقہ چلے گئے ریٹائرمنٹ کے بعد حافظ آباد ذاتی کاروبار کر رہے ہیں،بچپن سے شعر کہہ رہے ہیں دو ہزار اکیس میں پہلا شعری مجموعہ دعا زاد کے نام شائع ہوا جس شمار دور حاضر کے اہم شعری مجموعوں میں ہوتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button