مِری چمک دمک اب جوہری کو یاد نہیں
مَیں وہ گُہر ہوں جو اپنی لڑی کو یاد نہیں
ذرا بھی ہاتھ بٹاتی نہیں ہے گِریہ میں
مِرا ہی غم مِری افسردگی کو یاد نہیں
کھڑے ہیں مدرسۂ ہست میں خجِل کب سے!
نہ جانے کیسا سبق تھا! کسی کو یاد نہیں
خُوشی تڑپتی ہے بے طرح دل کے صحرا میں
کہاں سے لایا ہوں اِس جل پری کو، یاد نہیں!
سرشک و خواب ہیں کیا چیز؟ عکس کیا شے ہے؟
کسی کے بارے میں چشمِ تہی کو یاد نہیں
وہ دھیمی چاپ، وہ دستک، وہ دُھول، وہ آنسو
مکاں کو یاد ہے سب کُچھ، گلی کو یاد نہیں
کھنڈر کھنڈر پہ بھٹکتی ہے لڑکھڑاتی ہوئی
ہمارے گھر کا پتہ روشنی کو یاد نہیں
گُھماتی رہتی ہیں بس یوں ہی سُوئیاں، شارِقؔ
اب اصل وقت کسی بھی گھڑی کو یاد نہیں
سعید شارق








