آپ کا سلاماردو غزلیاتسعید شارقشعر و شاعری

مِری چمک دمک اب

سعید شارق کی ایک اردو غزل

مِری چمک دمک اب جوہری کو یاد نہیں
مَیں وہ گُہر ہوں جو اپنی لڑی کو یاد نہیں

ذرا بھی ہاتھ بٹاتی نہیں ہے گِریہ میں
مِرا ہی غم مِری افسردگی کو یاد نہیں

کھڑے ہیں مدرسۂ ہست میں خجِل کب سے!
نہ جانے کیسا سبق تھا! کسی کو یاد نہیں

خُوشی تڑپتی ہے بے طرح دل کے صحرا میں
کہاں سے لایا ہوں اِس جل پری کو، یاد نہیں!

سرشک و خواب ہیں کیا چیز؟ عکس کیا شے ہے؟
کسی کے بارے میں چشمِ تہی کو یاد نہیں

وہ دھیمی چاپ، وہ دستک، وہ دُھول، وہ آنسو
مکاں کو یاد ہے سب کُچھ، گلی کو یاد نہیں

کھنڈر کھنڈر پہ بھٹکتی ہے لڑکھڑاتی ہوئی
ہمارے گھر کا پتہ روشنی کو یاد نہیں

گُھماتی رہتی ہیں بس یوں ہی سُوئیاں، شارِقؔ
اب اصل وقت کسی بھی گھڑی کو یاد نہیں

سعید شارق

post bar salamurdu

سعید شارق

سعید شارق، ایم اجمل سعید 1993 میں پیدا ہوئے، اسلام آباد، پاکستان کے ایک مشہور نوجوان شاعر ہیں۔ 24 سال کی عمر میں، اس نے بڑے پیمانے پر تعریفی اور باوقار ایوارڈز حاصل کیے، جن میں پروین شاکر اکس-خوشبو ایوارڈ، بابا گرو نانک ادبی ایوارڈ، اور اپنے پہلے مجموعہ سایہ (2017) کے لیے کار خیر ایوارڈ شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button