آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریفیضان ہاشمی

نم نے نہیں پہنچنا نظر نے پہنچنا تھا

فیضان ہاشمی کی ایک اردو غزل

نم نے نہیں پہنچنا نظر نے پہنچنا تھا
اونچی تھی وہ منڈیر شجر نے پہنچنا تھا

ہر خواب ارتقا کے سفر میں شریک ہے
مجھ تک کسی کے زاد سفر نے پہنچنا تھا

اُڑتی رہے گی خاک کسی آسماں کی سمت
مٹی کی تہہ میں دیدہ تر نے پہنچنا تھا

تجسیم ہو تے ہوتے بگڑ جاتا ہےخیال
سر تک پرندے نے نہیں پر نے پہنچنا تھا

ہر بار ایک خواب میں جاتے تھے ہم جہاں
اِس رات ایک راہ گزر نے پہنچنا تھا

فیضان ہاشمی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button