اب سنبھلنے کی مصیبت میں پڑے ہیں ہم لوگ
آخری عمر میں پیروں پہ کھڑے ہیں ہم لوگ
تُو نے نزدیک سے دیکھا ہی نہیں ہے مرے دوست
تجھ کو اندازہ نہیں کتنے بڑے ہیں ہم لوگ
فیری میڈوز میں تھی نیم برہنہ پریاں
نانگا پربت پہ گنہگار کھڑے ہیں ہم لوگ
ایسے حالات میں ہو جاتی ہیں فوجیں پسپا
جس تذبذب میں غلامی سے لڑے ہم لوگ
زرد پتوں کو پڑیں جیسے ہوا کے تھپڑ
پوچھ مت کتنی اذیت سے جھڑے ہیں ہم لوگ
ایک دن ان کی حرارت سے بھڑک اٹھے گی آگ
جن سلگتی ہوئی باتوں پہ اڑے ہیں ہم لوگ
یوں گھسیٹے ہے سرِ دشت محبت ساجد
جیسے مجذوب کے پیروں کے کڑے ہیں ہم لوگ
لطیف ساجد







