آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریلطیف ساجد

ہم ایک ایسی اندھیر نگری سے

لطیف ساجد کی ایک اردو غزل

ہم ایک ایسی اندھیر نگری سے منسلک ہیں
جہاں مسائل کے بھید کرسی سے منسلک ہیں

ہمارے پیروں میں بیڑیاں ہیں ملازمت کی
ہمارے وعدے ہماری چھٹی سے منسلک ہیں

اس ایک نکتے پہ ساری سائنس کھڑی ہوئی ہے
کہ فارمولے خدا کی مرضی سے منسلک ہیں

تماش بینوں کی خواہشوں میں ہیں جسم رقصاں
مگر جو آنکھیں اداس کھڑکی سے منسلک ہیں

ہماری باتیں ، ہماری غزلیں ، ہماری ، نظمیں
اداس نسلوں کی رائیگانی سے منسلک ہیں

ہم ان بہادر سپاہیوں کی مثال ہیں جو
سروں کی بنیاد پر کہانی سے منسلک ہیں

ہمیں محبت سکھا رہے ہیں لطیف ساجد
جو ہیرو شیما و ناگاساکی سے منسلک ہیں

لطیف ساجد

post bar salamurdu

لطیف ساجد

لطیف ساجد پانچ اگست انیس سو اسی کو ونیکے تارڑ حافظ آباد میں پیدا ہوئے، دو ہزار ایک میں بطورِ سولجر آرمی میں بھرتی ہوئے دو ہزار تین میں کمانڈو کورس کے بعد ایس ایس جی چلے گئے تین سال صدر پرویز مشرف کی پرسنل سیکورٹی میں ڈیوٹی کے یو این مشن افریقہ چلے گئے ریٹائرمنٹ کے بعد حافظ آباد ذاتی کاروبار کر رہے ہیں،بچپن سے شعر کہہ رہے ہیں دو ہزار اکیس میں پہلا شعری مجموعہ دعا زاد کے نام شائع ہوا جس شمار دور حاضر کے اہم شعری مجموعوں میں ہوتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button