آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہمحمد حسین بہشتی

امامِ زمانہؑ کی مقام و منزلت !

تحریر: علامہ ڈاکٹر محمد حسین بہشتی

ولایتِ تکوینی و تشریعی اور امامِ زمانہؑ کی مقام و منزلت !
اسلامی عقائد میں ولایت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ بالخصوص مکتبِ اہلِ بیتؑ میں ولایت نہ صرف دینی و تشریعی رہنمائی کا سرچشمہ ہے بلکہ کائناتی نظم و تدبیر سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔ ولایت کی دو بنیادی قسمیں بیان کی جاتی ہیں: ولایتِ تشریعی اور ولایتِ تکوینی۔ ان دونوں کا کامل مظہر ائمہ اہلِ بیتؑ بالخصوص حضرت امام مہدیؑ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی ذاتِ اقدس ہے۔
ولایت کا مفہوم
لفظ ولایت عربی مادہ «و-ل-ی» سے ماخوذ ہے، جس کے معنی قرب، سرپرستی، اقتدار اور تدبیر کے ہیں۔ قرآن میں ولایت کبھی اللہ کے لیے، کبھی رسولؐ کے لیے اور کبھی اولیائے الٰہی کے لیے استعمال ہوئی ہے:
﴿اللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا﴾
(البقرہ: 257)
یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ولایت اصل میں خدا کی صفت ہے، جو اپنے برگزیدہ بندوں کے ذریعے ظہور پذیر ہوتی ہے۔
ولایتِ تشریعی
تعریف
ولایتِ تشریعی سے مراد وہ حقِ حاکمیت اور دینی اختیار ہے جس کے تحت نبیؐ اور امامؑ شریعت کی تبیین، نفاذ اور امت کی قیادت کرتے ہیں۔ یہ ولایت قانون سازی نہیں بلکہ الٰہی قانون کی تشریح اور تطبیق ہے۔
قرآنی دلائل
﴿أَطِيعُوا اللّٰهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ﴾
(النساء: 59)
اس آیت میں اولی الامر کی اطاعت کو رسولؐ کی اطاعت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی اطاعت بھی واجب اور الٰہی ہے۔ اہلِ بیتؑ کی روایات کے مطابق اولی الامر سے مراد معصوم ائمہؑ ہیں۔
امام زمانہؑ اور ولایتِ تشریعی
اگرچہ امام زمانہؑ غیبت میں ہیں، لیکن ان کی ولایتِ تشریعی برقرار ہے۔ فقہائے جامع الشرائط ان کی نیابت میں شریعت کی تطبیق کرتے ہیں، جیسا کہ احادیث میں وارد ہوا ہے:
"وأمّا الحوادث الواقعة فارجعوا فيها إلى رواة حديثنا”
(الاحتجاج، طبرسی)
ولایتِ تکوینی
تعریف
ولایتِ تکوینی وہ قدرتِ الٰہی ہے جو اللہ اپنے برگزیدہ اولیاء کو عطا فرماتا ہے، جس کے ذریعے وہ کائنات میں تصرف اللہ کے اذن سے انجام دیتے ہیں، نہ مستقل طور پر بلکہ بإذنِ اللہ۔
قرآنی شواہد
حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں قرآن فرماتا ہے:
﴿أُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَأُحْيِي الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِ اللّٰهِ﴾
(آلِ عمران: 49)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ تکوینی تصرفات شرک نہیں بلکہ اللہ کے اذن سے ہوتے ہیں۔
اسی طرح حضرت سلیمانؑ کا جنات، ہوا اور پرندوں پر اقتدار بھی ولایتِ تکوینی کی روشن مثال ہے۔
ائمہ اہلِ بیتؑ اور ولایتِ تکوینی
احادیثِ اہلِ بیتؑ میں بارہا اس امر کی تصریح ملتی ہے کہ ائمہؑ اللہ کی حجت اور اس کے فیض کے واسطے ہیں:
"بِنا عُبِدَ اللّٰهُ وبِنا عُرِفَ اللّٰهُ”
(الکافی)
یہ روایت اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ ائمہؑ کا وجود کائناتی ہدایت اور فیضِ الٰہی کا محور ہے۔
امام زمانہؑ کی تکوینی جایگاہ
امام مہدیؑ اس زمین پر اللہ کی آخری حجت ہیں۔ اگرچہ وہ پردۂ غیبت میں ہیں، مگر کائنات کا نظام ان کے وجودِ مقدس سے وابستہ ہے:
"لَو بَقِيَتِ الأرضُ بغيرِ إمامٍ لَساخَت”
(الکافی)
یعنی اگر زمین ایک لمحے کے لیے بھی امام سے خالی ہو جائے تو تباہ ہو جائے۔
یہ حدیث امام زمانہؑ کی ولایتِ تکوینی کی طرف گہرا اشارہ رکھتی ہے کہ ان کا وجود نظامِ ہستی کے لیے ناگزیر ہے۔
ولایت، غیبت اور انسان
امام زمانہؑ کی غیبت دراصل انسان کے امتحان کا دور ہے۔ جو شخص اس دور میں بھی ولایت سے وابستہ رہتا ہے، وہ فکری و روحانی طور پر گم نہیں ہوتا۔ یہی ولایت انسان کو باطنی تنہائی سے نجات دیتی ہے اور اسے خدا سے جوڑتی ہے۔
نتیجہ
ولایتِ تشریعی انسان کی ظاہری زندگی کی رہنمائی کرتی ہے اور ولایتِ تکوینی کائنات کے باطنی نظام کو سنبھالے ہوئے ہے۔ امام زمانہؑ ان دونوں ولایتوں کے کامل مظہر ہیں۔ ان کی معرفت، اطاعت اور انتظار دراصل خدا کی بندگی کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔
خوش نصیب ہے وہ انسان جو غیبت کے اس پُرفتن دور میں بھی امامِ وقتؑ کی ولایت سے وابستہ رہے، کیونکہ یہی وابستگی اسے خدا کے قرب تک لے جاتی ہے۔

علامہ ڈاکٹر محمد حسین بہشتی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button