آپ کا سلاماردو غزلیاتبشریٰ شہزادیشعر و شاعری

یہ آگہی کی مسافت یہ ہاؤ ہو کی تھکن

بشریٰ شہزادی کی ایک اردو غزل

یہ آگہی کی مسافت یہ ہاؤ ہو کی تھکن
ترے حضور خدایا یہ جستجو کی تھکن

کہیں ملے گا تو بے ساختہ گلے لگ کر
اتار دیں گے سمندر میں آب جو کی تھکن

سمیٹ پائیں گی بانہیں وجودِ حرص و ہوس
کہاں سہارے گی منزل بھی رنگ و بو کی تھکن

بلیک ہول بنے ہیں تمھارے ہجر میں ہم
سمٹتی آتی ہے ہم میں چہار سو کی تھکن

میں تیرے ہجر سے شرمندہ ہوں کہ اب مجھ میں
بھری ہوئی ہے کسی اور آرزو کی تھکن

کبھی تُو لوٹ کے آجا سمیٹنے کے لئے
جہاں میں پھیلی ہوئی اپنے بے نمو کی تھکن

ہمیں ہماری اداسی ملی تھی راہ چلتے
ہم اس پہ لاد کے لے آئے گفتگو کی تھکن

بشریٰ شہزادی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button