آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعری

تاروں کے سائے سائے

سلمان ثروت کی ایک اردو غزل

تاروں کے سائے سائے بہت دور جائیں گے
شاید کہ آسماں کے مضافات آئیں گے

الفاظ پر طلسمِ خیالات پھونکیے
اشعار اپنے آپ ہی جادو جگائیں گے

جاگو تو ہاتھ آتی ہیں خوابوں کی کترنیں
ہم خواب جوڑ جوڑ کے رلی بنائیں گے

اٌلٹے قدم چلیں گے زمانے کی راہ پر
گزرے ہوؤں کا نام و نشاں ڈھونڈ لائیں گے

بنتے بگڑتے رہتے ہیں آواز کے نقوش
لہروں کے اِرتعاش سے یہ جھلملائیں گے

فرشِ توہمات میں کھودیں گے اک سرنگ
اس راستے سے کوئے اساطیر جائیں گے

دنیا میں زندگی کا ہے سرکس لگا ہوا
ہم سب تماشبین ہیں کرتب دکھائیں گے

رقصاں رہیں گی سامنے تاعمر خواہشیں
اِن اپسراؤں کو کبھی ہم چھو نہ پائیں گے

ایسی غزل ہوئی ہے کہ چکرا گئے خیال
سلمان بن پیے بھی ذرا ڈگمگائیں گے

سلمان ثروت

سلمان ثروت

سلمان ثروت 17 ستمبر 1977 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ایک ادبی گھرانے میں آنکھ کھولنے کے سبب بچپن سے شعر و ادب سے شغف ایک قدرتی سا عمل ہوتا ہے۔ سلمان ثروت نے اُس شعری فضا کا اثر قبول کیا اور بہت کم عمری نظمیں کہنا شروع کیں۔ تعلیمی میدان میں آپ نے جامعہ کراچی سے ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی اسناد حاصل کیں۔ ڈاکٹر سلمان ثروت ایک سرکاری جامعہ میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور سربراہِ شعبہ کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں. تحقیق، فلسفہ، معاشیات اور مالیات آپ کے مضامین ہیں۔ سلمان ثروت کم و بیش پندرہ برس سے شعری منظر نامے پر فعال ہیں۔ سن 2020 میں آپ کا پہلا شعری مجموعہ "میں استعاروں میں جی رہا ہوں" "آج پبلیکیشن" کے زیرِ اہتمام شائع ہوا، جو نظموں اور غزلوں پر مشتمل ہے۔ آپ کا کلام مختلف مؤقر ادبی جرائد مثلاً مکالمہ، دنیازاد، ادبیات اور آثار میں شائع ہوتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ آپ عالمی اردو کانفرنس، کراچی لٹریچر فیسٹیول، ساکنانِ شہرِ قائد اور تحبیب فیسٹیول دبئی کے زیرِ اہتمام مشاعروں میں بھی اپنا کلام پیش کرتے رہے ہیں۔ شاعری کے ساتھ ساتھ آپ تنقیدی مضامین اور افسانے بھی لکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button