اردو غزلیاتسعود عثمانیشعر و شاعری

جو دل قریب ہو پہلے نشانہ بنتا ہے

سعود عثمانی کی ایک اردو غزل

جو دل قریب ہو پہلے نشانہ بنتا ہے

سو اس کا تیر مجھی پر چلانا بنتا ہے

یہ بوڑھی ماں کی طرح کچھ بھی کہہ نہیں سکتی

سو اس زمیں کا تمسخر اڑانا بنتا ہے

وہ گوری چھاؤں میں ہیں اور سیاہ دھوپ میں ہم

سو ان کا حق ہے ، انہی کا جلانا بنتا ہے

چراغ زاد ! چراغوں سے تیری بنتی نہیں

ہواؤں سے ہی ترا دوستانہ بنتا ہے

خرد کے آڑھتیوں کو یہ علم ہی تو نہیں

کہ خوب سوچ سمجھ کر دوانہ بنتا ہے

میں ہاتھ جوڑتا ہوں ناصحانِ شعلہ زباں

بہت دکھوں سے کوئی آشیانہ بنتا ہے

سعود عثمانی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button