- Advertisement -

کچھ نہ پوچھو بہک رہے ہیں ہم

میر تقی میر کی ایک غزل

کچھ نہ پوچھو بہک رہے ہیں ہم
عشق کی مے سے چھک رہے ہیں ہم

سوکھ غم سے ہوئے ہیں کانٹا سے
پر دلوں میں کھٹک رہے ہیں ہم

وقفۂ مرگ اب ضروری ہے
عمر طے کرتے تھک رہے ہیں ہم

کیونکے گرد علاقہ بیٹھ سکے
دامن دل جھٹک رہے ہیں ہم

کون پہنچے ہے بات کی تہ کو
ایک مدت سے بک رہے ہیں ہم

ان نے دینے کہا تھا بوسۂ لب
اس سخن پر اٹک رہے ہیں ہم

نقش پا سی رہی ہیں کھل آنکھیں
کس کی یوں راہ تک رہے ہیں ہم

دست دے گی کب اس کی پابوسی
دیر سے سر پٹک رہے ہیں ہم

بے ڈھب اس پاس ایک شب تھے گئے
سو کئی دن سرک رہے ہیں ہم

خام دستی نے ہائے داغ کیا
پوچھتے کیا ہو پک رہے ہیں ہم

میر شاید لیں اس کی زلف سے کام
برسوں سے تو لٹک رہے ہیں ہم

میر تقی میر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
میر تقی میر کی ایک غزل