اردو غزلیاتشعر و شاعریشکیب جلالی

پیروں میں زنجیریں ڈالیں

شکیب جلالی کی ایک اردو غزل

دنیا والوں نے چاہت کا مجھ کو صلا انمول دیا
پیروں میں زنجیریں ڈالیں ہاتھوں میں کشکول دیا
اتنا گہرا رنگ کہاں تھا رات کے میلے آنچل کا
یہ کس نے رو رو کے گگن میں اپنا کاجل گھول دیا
یہ کیا کم ہے اس نے بخشا ایک مہکتا درد مجھے
وہ بھی ہیں جن کو بس رنگوں کا اک چمکیلا خول دیا
مجھ سا بے مایہ اپنوں کی اور تو کیا خاطر کرتا
جب بھی ستم کا پیکاں آیا، میں نے سینہ کھول دیا
بیتے لمحے دھیان میں آ کر مجھ سے سوالی ہوتے ہیں
تو نے کس بنجر مٹّی میں من کا امرت ڈول دیا
اشکوں کی اجلی کلیاں ہوں یا سپنوں کے کندن پھول
الفت کی میزان میں میں نے جو تھا سب کچھ تول دیا

شکیب جلالی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button