اردو غزلیاتسعود عثمانیشعر و شاعری

حوصلہ خود ہتھیار

سعود عثمانی کی ایک اردو غزل

حوصلہ خود ہتھیار بنایا جا سکتا ہے

شاخ کو بھی تلوار بنایا جا سکتا ہے

لوگو ۔ یہ دن راتیں کاٹنے والا دن ہے

یہ دن پھر اک بار بنایا جا سکتا ہے

تنہا تنہا پتی پتی جینے والو

یہ صحرا گلزار بنایا جا سکتا ہے

اپنی اپنی کشتی باہم جوڑ کے دیکھو

راستا دریا پار بنایا جا سکتا ہے

خیبر کے کہسار سے لے کر بحر عرب تک

جسموں کو دیوار بنایا جا سکتا ہے

راہنماؤ تم سے خلقت پوچھ رہی ہے

ہم کو کتنی بار بنایا جا سکتا ہے

 

سعود عثمانی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button