- Advertisement -

اسی ایک فرد کے واسطے

عدیم ہاشمی کی اردو غزل

اسی ایک فرد کے واسطے مرے دل میں درد ہے کس لئے
مری زندگی کا مطالبہ وہی ایک فرد ہے کس لئے

تو جو شہر میں ہی مقیم ہے تو مسافرت کی فضا ہے کیوں
ترا کارواں جو نہیں گیا تو ہوا میں گرد ہے کس لئے

نہ جمال و حسن کی بزم ہے نہ جنون و عشق کا عزم ہے
سرِ دشت رقص میں ہر گھڑی کوئی بادِ گرد ہے کس لئے

ترے حسن سے یہ پتہ چلا تجھے دیکھ کر یہ خبر ہوئی
جہاں راستہ ہی نہیں کوئی وہاں رہ نورد ہے کس لئے

جو لکھا ہے میرے نصیب میں کہیں تو نے پڑھ تو نہیں لیا
ترا ہاتھ سرد ہے کس لئے ترا رنگ زرد ہے کس لئے

وہ جو ترکِ ربط کا عہد تھا کہیں ٹوٹنے تو نہیں لگا
ترے دل کے درد کو دیکھ کر مرے دل میں درد ہے کس لئے

کوئی واسطہ جو نہیں رہا تری آنکھ میں یہ نمی ہے کیوں
مرے غم کی آگ کو دیکھ کر تری آہ سرد ہے کس لئے

عدیم ہاشمی 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
فرزانہ نیناں کی اردو نظم