- Advertisement -

شعر لکھے نہ قافیہ لایا

اورنگ زیبؔ کی ایک اردو غزل

شعر لکھے نہ قافیہ لایا
خود کو کاغذ پہ مَیں سجا لایا

راہ میں اک فقیرِ خوش دل کو
بد دعا دے کے اک دعا لایا

مَیں غزل کہتے کہتے جلدی میں
عشق کا قافیہ اٹھا لایا

دل جو کافر تھا بخشا جائے تو کیا
تجھ پہ ایماں تو بارہا لایا

عشق اک میرؔ بھاری پتھر تھا
دیکھ یہ ناتواں اٹھا لایا

عین ممکن ہے وہ سوال کرے
کیا نہ لایا جہاں سے کیا لایا

یوں مکمل ہوئی ہے یہ تصویر
وہ دوئی لائی میں دعا لایا

ہوتے ہوتے ہنر ہوا صیقل
آتے آتے مجھے کمال آیا

اور تو کچھ نہ بن سکا مجھ سے
خاک سے اک خدا بنا لایا

گھر میں خورشید کی ضرورت تھی
اور تُو یہ دیا اٹھا لایا

تجھ گلی میں جو لے گیا تھا دل
کیوں نہ پھر خاک میں ملا لایا

میں نہ چھوڑوں گا اس کو منزل پر
مجھ کو منزل پہ راستہ لایا

آنسوؤں کو لہو میں شامل کر
تُو انہیں آنکھ میں سجا لایا

خالی ہاتھ آ رہا ہے دنیا سے
خالی ہاتھوں میں ویسے کیا لایا

دل کو جانا تھا دار پر تنہا
کیوں مجھے ساتھ میں لگا لایا

مجھ سے آنسو بھی چھپ سکے نہ زیبؔ
وہ بغل میں صنم چھپا لایا

اورنگ زیبؔ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
اورنگ زیبؔ کی ایک اردو غزل