اردو نظمپروین شاکرشعر و شاعری

جل پری

پروین شاکر کی ایک اردو نظم

جل پری

اس قدر دودھیا خوشنما ہنس کر
اپنی جانب لپکتے ہُوئے دیکھ کر مُسکرائی
مگر اس کی یہ مسکراہٹ ہنسی بننے سے قبل ہی چیخ میں ڈھل گئی
اُس کا انکار بے سُود
وحشت ، سراسیمگی ، اجنبی پھڑپھڑاہٹ میں گُم ہو گئی
آہ و زاری کے با وصف
مضبوط پَر اُس کا سارا بدن ڈھک چکے تھے!
اُجلی گردن میں وحشت زدہ چونچ اُتری چلی جا رہی تھی
اُس کے آنسو
سمندر میں شبنم کی مانند حل ہو گئے!
سِسکیاں
تُند موجوں کی آواز میں بے صدا ہو گئیں !
ہنس اپنے لہُو کی دہکتی ہُوئی وحشتیں
نیم بے ہوش خوشبو کے رس سے بجھاتا رہا
اور پھر اپنے پیاسے بدن کے مساموں پہ
بھیگی ہُوئی لذّتوں کی تھکن اوڑھ کر اُڑ گیا!
جل پری
گہرے نیلے سمندر کی بیٹی
اپنی مفتوح و نا منتظر کوکھ میں
آسماں اور زمیں کے کہیں درمیاں رہنے والو ں کا
بے شجرہ و بے نسب ورثے کا بوجھ تھامے ہُوئے
آج تک رو رہی ہے!

پروین شاکر

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button