اردو غزلیاتشعر و شاعریفرزانہ نیناں

صبح کے روپ میں جب دیکھنے جاتی ہوں اسے

فرزانہ نیناں کی اردو غزل

صبح کے روپ میں جب دیکھنے جاتی ہوں اسے
شیشے کی ایک کرن بن کے جگاتی ہوں اسے
بال کھولے ہوئے پھرتی ہوں کسی خواب کے ساتھ
شام کو روز ہی، روتی ہوں ،رُلاتی ہوں اسے
یاد میر ی بھی پڑی رہتی ہے تکیے کے تلے
آخری خط کی طرح روز جلاتی ہوں اسے
راہ میں اس کی بچھا دیتی ہوں ٹوٹی چوڑی
چبھ کے کانٹے کی طرح روز ستاتی ہوں اسی
بھولے بسرے کسی لمحے کی مہکتی خوشبو
گوندھ کر اپنے پراندے میں جھلاتی ہوں اسے

فرزانہ نیناں

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button