اردو نظمشعر و شاعریناہید ورک

یاد

ناہید ورک کی اردو نظم

یاد

بے یقیں شاموں کی تنہائی میں اب بھی
بے صدا صبحوں کی پہنائی میں اب بھی
میرے اندر سے کوئی تجھ کو
تسلسل سے بلاتا ہے
مگر فرقت کی سِل ہٹتی نہیں ہے
(دھند چھٹتی ہی نہیں ہے)
اپنے دل کی بے بسی
کب رو سکوں، کب کہہ سکوں میں
منتظر آنکھوں میں اکثر
اشک چبھنے لگتے ہیں
ان میں گلابی رنگ سجنے لگتے ہیں
تیرے لیے ہم پھر
بکھرنے لگتے ہیں !!!

ناہید ورک

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button