اردو غزلیاتبہادر شاہ ظفرشعر و شاعری

یارِ دیرینہ ہے پر روز ہے وہ یار نیا

بہادر شاہ ظفر کی اردو غزل

یارِ دیرینہ ہے پر روز ہے وہ یار نیا
ہر ستم اس کا نیا اس کا ہے ہر پیار نیا

نئی انداز کا ہے دامِ بلا طرۂ یار
روز ہے ایک نہ اک اس میں گرفتار نیا

تیری ہاں میں ہے نہیں اور نہیں میں ہے ہاں
تیرا اقرار نیا ہے ترا انکار نیا

کیسے بیدرد دلِ آزار کو دل ہم نے دیا
روز ہے درد نیا، روز اک آزار نیا

کیا قیامت ہے ستمگار تری طرزِ خرام
فتنہ ہر گام پہ اٹھا دمِ رفتار نیا

کریں وہ کس کی دوا دیکھتے ہیں رو ز طبیب
تیرے اس نرگسِ بیمار کا بیمار نیا

پھیر لے اس سے ظفر دل کا جو سودا پھر جائے
ایک موجود ہے اور اس کا خریدار نیا

(بہادر شاہ ظفر)

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button