آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعلی کوثر

دیوار دِکھ سکے نہ دریچہ دکھائی دے

علی کوثر کی ایک اردو غزل

دیوار دِکھ سکے نہ دریچہ دکھائی دے
ہاتھوں کی اِن لکیروں میں صحرا دکھائی دے
۔
ہم یوں لپک پڑے تھے تری سمت جس طرح
اک تشنہ لب پرندے کو دریا دکھائی دے
۔
دیکھا نہیں کسی نے مری آنکھ سے تجھے
ورنہ تو ساری دنیا کو اچھا دکھائی دے
۔
مٹی کے سادہ رنگ پہ کِھلتے ہیں جیسے پھول
ہر رنگ تجھ پہ اس طرح کِھلتا دکھای دے
۔
ہر سمت آئینے کی طرح ہو گئی علی
ہر سمت اب مجھے مرا چہرہ دکھائی دے

علی کوثر

post bar salamurdu

علی کوثر

میرا تعلق گوجرانولہ سے ہے - میں ملازمت پیشہ ہوں اور بیکن ہاؤس سے منسلک ہوں -

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button