اردو شاعریاردو غزلیاتفرزانہ نیناں

اپنی صدا سے اپنی شناسائی کھو گئی

فرزانہ نیناں کی اردو غزل

اپنی صدا سے اپنی شناسائی کھو گئی
تنہائیوں کے شور میں تنہائی کھو گئی
سینے میں گھٹ رہی ہے محبت کی سانس سانس
چلتی تھی میرے گھر میں جو پروائی کھو گئی
بارات دیکھ کر کسی گھبرو کی رات کو
سسکاریوں کے شور میں شہنائی کھو گئی
دریافت آسمان کی بھائی نہیں ہمیں
سیارے دیکھتے ہوئے بینائی کھو گئی
افسانہ بن گئے مری تاریخ کے ورق
اسلاف کے ہنر کی پذیرائی کھو گئی
چھائی ہوئی ہے دھند نگاہوں کے سامنے
نیناں ان آئینوں کی بھی زیبائی کھو گئی

فرزانہ نیناں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button