- Advertisement -

نکل کر حلقۂ اہلِ اثر سے بھاگ جاؤں میں

لیاقت علی عاصم کی ایک اردو غزل

نکل کر حلقۂ اہلِ اثر سے بھاگ جاؤں میں
کئی دن سے یہ خواہش ہے کہ گھر سے بھاگ جاؤں میں

ذرا ہمت کرے یہ دل تو شاید دوسرے پَل میں
چھُڑا کر جان دستِ چارہ گر سے بھاگ جاؤں میں

ابھی رستے میں ہیں کچھ جانے پہچانے ہوئے چہرے
ہراساں ہو کے کیوں گردِ سفر سے بھاگ جاؤں میں

چلو یوں ہی سہی اب کے زیادہ بارشیں ہوں گی
تو کیا اپنے شکستہ بام و در سے بھاگ جاؤں میں

چلو یوں ہی سہی اب کے نشانے پر فقط ہوں میں
تو کیا منہ پھیر کر اُن کی نظر سے بھاگ جاؤں میں

کہاں وہ آنکھ کے اُس بام سے آگے بھی کچھ دیکھوں
کہاں وہ پاؤں کے اُس راہگزر سے بھاگ جاؤں میں

لیاقت علی عاصم

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
لیاقت علی عاصم کی ایک اردو غزل