آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحمد یوسف برکاتی

تلاش حق، ماں کی خدمت اور فرمان رسولﷺ

ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

سلطان العارفین حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا اصل نام طیفور بن عیسیٰ تھا آپ رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ایک مکمل مضمون میں پھر کبھی لیکر حاضر خدمت ہوں گا آج کی تحریر آپ رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ایک مختصر تعارف کے طور پر بیش کرنے کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش کروں گا جناب حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ جیسے ہمعصر بزرگوں کے بارے میں جب ہم پڑھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سچے عاشق خدا عاشق رسول ﷺ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات پر اپنی زندگی گزارنے والے لوگ حقیقت میں کیسے ہوتے ہیں حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا مقام و مرتبہ صوفی بزرگان دین میں ایک بلند و پایہ مقام تھا حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کو اولیاء میں وہ مقام حاصل تھا جو حضرت جبرائیل علیہ السلام کو فرشتوں میں حاصل تھا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ایک دفعہ آپ علیہ الرحمہ نے اپنی والدہ سے عرض کیا کہ امی جان مجھے دنیا میں اگر کسی سے محبت ہے تو وہ یا تو آپ ہیں اور یا پھر میرا خالق و مالک یعنی میرا رب لیکن مجھ سے دونوں محبتوں کا حق ادا نہیں ہوتا یا تو آپ مجھے اللہ تعالیٰ سے مانگ لیں تاکہ میں اپنی پوری زندگی آپ کی خدمت کرتے کرتے آپ کی محبت میں گزار دوں یا پھر مجھے اپنی محبت کا حق معاف کردیں تاکہ میں صرف اللہ تعالیٰ کی محبت میں اپنی زندگی گزار دوں آپ علیہ الرحمہ کی یہ بات سن کر والدہ حیران ہوگئیں اور آپ علیہ الرحمہ کی تڑپ دیکھ کر فرمایا کہ بیٹا میں تمہیں اپنی محبت کے حق سے آزاد کرتی ہوں جائو اور اپنے رب تعالیٰ کی محبت میں اپنی زندگی گزارو بس پھر آپ علیہ الرحمہ گھر سے نکل گئے اور جنگلوں کی طرف چلے گئے ﺣﻀﺮﺕ ﺑﺎﯾﺰﯾﺪ ﺑﺴﻄﺎﻣﯽ رحمتہ اللہ علیہ ﻧﮯ ﺗﯿﺲ ﺳﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﺟﻨﮕﻠﻮﮞ ﻭﯾﺮﺍﻧﻮﮞ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺨﺖ ﻣﺠﺎﮨﺪﮮ ﮐﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺳﻮ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻭﻟﯿﺎ ﮐﺮﺍﻡ ﺳﮯ ﻓﯿﺾ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ۔ﭘﮭﺮ ﺩﻧﯿﺎ ﻧﻔﺲ ﺳﮯ ﮐﻨﺎﺭﮦ ﮐﺸﯽ ﮐﺮ ﮐﮧ ﻓﻨﺎ ﻓﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻮ ﮔﮱ۔ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﮨﻮ ﮔﺊ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺯﺑﺎﻥ ﺩﮬﻮﺗﮯ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کئی سالوں تک مسجد کی دیوار سے ٹیک لگا کر صرف اس لیئے بیٹھے رہے کہ اللہ ہر جگہ ہر لمحہ موجود ہے اس کے سامنے پائوں پساکر یا پھیلا کر بیٹھنا بے ادبی ہے آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ کئی ریاضتوں اور عبادتوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے معراج کروائی
ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺣﻀﻮﺭ ﮐﺮﯾﻢ ﺻﻞ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺧﻄﺎﺏ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﮮ ﺑﺎﯾﺰﯾﺪ ﺗﻢ ﺍﺑﮭﯽ ﺧﺎﻡ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﻠﺲ ﻣﺤﻤﺪﯼ ﺻﻞ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ نہیں اب آپ اندازہ لگایئے کہ اتنے بڑے مقام پر فائز اللہ تعالیٰ کے ولی اور حکم ہوا کہ آپ ابھی قابل نہیں ایک جگہ آپ علیہ الرحمہ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی شان بیان فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے نور کے بیشمار حجابات کراس کیئے تب جاکر میرے سامنے ایک نور کا سمندر آیا یہاں ستر نور کے پردے تھے اور ان تمام پردوں کو عبور کرکے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک رسائی ممکن تھی جبکہ نور کے پہلے پردے کی تجلی ایسی تھی کہ میں ایک قدم بھی آگے بڑھاتا تو جل جاتا اس لیئے میں وہیں سے واپس آگیا یہ ہے میرے مصطفی اللہ کے آخری نبی اور رسول ﷺ کی شان عظمت آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اگر سرکار دو عالم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نور کو ستر پردوں میں چھپایا نہ جاتا تو پوری کائنات اس نور کے ایک ذرے سے جل کر خاکستر ہو جاتی ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ایک دفعہ آپ علیہ الرحمہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ حج پر تشریف لے گئے یہ وہ وقت تھا جب حج پر جانا انتہائی مشکل ہوتا تھا ایک سال تک پیدل سفر کرکے لوگ مکہ پہنچتے تھے اور حج کے فرائض کی ادائیگی کرتے تھے جب حج کی سعادت سے فارغ ہوئے تو ساتھیوں نے عرض کیا کہ کیوں نہ مدینہ منورہ جاکر اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کا شرف حاصل کرلیا جائے لیکن حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا نہیں حج کے بہانے وہاں پر جانے سے مجھے شرم آتی ہے لہذہ آپ علیہ الرحمہ ایک سال کا سفر طے کرکے بسطام پہنچنے اور پھر وہاں سے واپس مدینہ منورہ کے لیئے روانہ ہوگئے یہ ہوتا ہے عشق اور حاضری کا جذبہ سفر طے کرکے روضہ رسول ﷺ پر حاضر ہوئے لیکن جیسے ہی آپ علیہ الرحمہ کی سبز گنبد پر نظر پڑی تو آپ علیہ الرحمہ بیہوش ہوکر گر پڑے یہ تھا ان باطن اور ان کے دل کا نور یعنی حاضر بھی ہوئے اور سرکار مدینہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کا نظارہ بھی نہ کرسکے اور ہم جب وہاں جاتے ہیں تو سیلفیاں بنا بنا کر اپنے آپ کو ضائع کر دیتے ہیں ایک اللہ تعالیٰ کے ولی نے فرمایا تھا کہ اگر تمہیں اپنے باطن اور نور کا مشاہدہ کرنا ہو تو آنکھیں بند کرکے روضہ رسول ﷺ اور یا کسی بھی اللہ تعالیٰ کے ولی کے مزار کا تصور قائم کرلو اگر دل میں کچھ تبدیلی محسوس نہ کرپائو تو سمجھ لینا کہ تمہارا باطن ابھی روشن نہیں ہوا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ ابھی بیہوشی کی حالت میں تھے کہ سرکار مدینہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کو حکم دیا کہ واپس جائو اور اپنی ماں کے پاس اور ان کی خدمت کرو سبحان اللہ دیکھیئے میرے آقا و مولا کی شان نا عبادتوں کا حکم نا یہاں روضہ رسول ﷺ پر بیٹھنے کا حکم کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانتے تھے کہ یہ بچپن سے ماں سے دور معرفت الٰہی کی تلاش میں ہے اس لیئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم فرمایا حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کو جب ہوش آیا تو ایک لمحہ ضائع کیئے بغیر حکم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکمیل کی خاطر واپس روانہ ہوگئے بچپن سے گھر سے نکلنے والے اس ولی نے بڑھاپے میں اپنے گھر کی دہلیز پر قدم رکھا گھر پہنچے تو اندر سے والدہ کے دعا کرنے کی آواز آرہی تھی کہ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻗﺮﺏ ﺩﮮ ﺟﺴﮑﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺑﭽﭙﻦ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺩﯾﮑﺮ ﺗﯿﺮﯼ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻼ ﮨﮯ ماں کی آواز سن کر حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ زاروقطار رونے لگے اور دروازے پر دستک دی اندر سے آواز آئی کون ؟ عرض کیا ماں میں ہوں تیرا طیفور ( حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا اصل نام ) والدہ نے دروازہ کھولا دونوں ماں بیٹا برسوں بعد ملے بچن کے بعد آج بڑھاپے میں ملاقات ہورہی تھی آسمانوں پر موجود فرشتے بھی ان کو دیکھ کر جذباتی ہوکر تو پڑے بوڑھی والدہ اپنے ہاتھوں سے ٹٹول ٹٹول کر بیٹے کو چھوکر محسوس کررہی ہے حضرت سمجھے کہ عمر کی زیادتی کی وجہ سے بینائی کمزور ہوگئی ہے اگلے دن طبیب کو دکھایا تو معلوم ہوا کہ مسلسل رونے کی وجہ سے ان کی بینائی ختم ہوچکی ہے اس کے حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ انہیں گھر لے آئے اور اور جب تک والدہ زندگی رہیں آپ علیہ الرحمہ کبھی گھر سے باہر نہیں گئے اگر کسی ولی کی زیارت کرنے کے لیئے جانے کا کوئی کہتا بھی تو کہ دیتے کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی والدہ کی خدمت کرنے کا حکم دیا ہے اس لیئے میں کہیں نہیں جاسکتا .
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ وہی بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ ہیں کہ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺳﺮﺩﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﻧﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﺎﻧﮕﺎ ﺟﺐ ﭘﺎﻧﯽ ﻻﮰ ﺗﻮ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺳﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ۔ﺍﻧﮑﻮ ﻧﯿﻨﺪ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎﻧﺎ ﺑﮯ ﺍﺩﺑﯽ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﮔﻼﺱ ﻟﮱ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺳﺮﮨﺎﻧﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﻧﺎ ﮨﻮ ﺑﮯ ﺍﺩﺑﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ محترم پڑھنے والوں یہ ہوتی اطاعت رسول ﷺ
ﻓﻨﺎ ﻓﯽ ﺍﻟﺮﺳﻮﻝ۔۔۔ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺎﮎ ﺻﻞ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮧ ﻭﻗﻒ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﮯ لیئے ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮐﯽ ﺟﺐ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﯽ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﭘﺎﻧﯽ لیئے ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻃﯿﻔﻮﺭ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺍﭨﮭﺎئی ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺍﺗﻨﯽ ﺳﺮﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﮯ۔ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﻨﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻟﮱ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻮﺍﺭﮦ ﻧﮩﯽ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺯﺣﻤﺖ ﺍﭨﮭﺎﻧﯽ ﭘﮍﮮ۔ﻭﺍﻟﺪﮦ ﻧﮯ ﻧﻢ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﺎ ﯾﺰﯾﺪ ﺑﺴﻄﺎﻣﯽ رحمتہ اللہ علیہ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ کہ ﺟﺲ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻭﯾﺮﺍﻧﻮﮞ ﺟﻨﮕﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﺎﮎ ﭼﮭﺎﻧﯽ ﻭﮦ ﺳﺐ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﮯ صلہ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ۔ سبحان اللہ
ﻣﯿﺮﮮ ﺁﻗﺎ ﺻﻞ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺷﺎﻥ۔
ﻣﺎﮞ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﻼ ﺩﯾﺎ۔
ﺑﻮﮌﮬﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﯾﺰﯾﺪ ﺑﺴﻄﺎﻣﯽ رحمتہ اللہ علیہ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﺣﻖ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﯼ۔
(تذکرہ اولیاء)
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں تذکرہ اولیاء میں موجود یہ تحریر ہمیں کئی اسباق سے روشناس کرواتی ہے اللہ تعالیٰ کی تلاش حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت اور حصول عشق یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ماں کی دل سے خدمت کے عوض ہمیں عطا فرما دیتا ہے اور ہم کوئی عبادت کریں کسی مزار بزرگ یا مزار اولیاء پر ان کے وسیلے سے دعا بھی مانگے تو سچے دل سے اور یہ سوچ کر کہ جب وہاں سے اٹھیں گے تو ہماری دعا قبولیت کا درجہ پاچکی ہوگی یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دل سے کی گئی عبادت اور مانگی گئی دعا ضرور قبول فرماتا ہے ۔اخر میں رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں بھی ایسے لوگوں کی طرح زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے مجھے سچ لکھنے ہمیں پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے اپنی دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا انشاء اللہ پھر کسی موضوع پر ایک آرٹیکل لیکر حاضر ہو جائوں گا ۔

محمد یوسف میاں برکاتی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button