دبئی ایئر شو میں اس دن عجیب منظر تھا۔ دنیا بھر کے لوگ جدید طیاروں کی پرواز اور مہارت دیکھنے آئے تھے مگر بھارتی تیجس نے سب کو ایک ایسی کرتب بازی دکھائی جو شاید بھارتی میڈیا کے سوا کسی ملک کو پسند نہیں آئی۔ طیارہ چند لمحوں کی اڑان کے بعد آسمان سے نہیں بلکہ اپنے دعووں کے بوجھ سے زمین پر آیا اور دھماکے نے یہ اعلان کر دیا کہ بھارت کی دفاعی صنعت ابھی بھی خواہشوں میں زندہ ہے، حقیقت میں نہیں۔ سب سے افسوسناک پہلو پائلٹ کی ہلاکت تھی مگر جو سوال اٹھا وہ بھارت کے انہی پرانے دعووں پر اٹھا جنہیں وہ بار بار چمکا کر دنیا کو دکھانا چاہتا ہے۔
بھارت برسوں سے کہتا آیا ہے کہ تیجس اس کی خود انحصاری کی علامت ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طیارے کی کارکردگی پر خود بھارتی ماہرین برسوں سے سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ ایک حادثہ بھارت میں پہلے بھی ہو چکا تھا۔ انجن مسائل، تعمیراتی غلطیاں اور تجرباتی کمزوریاں وہ خامیاں ہیں جنہیں حسن کاری سے چھپایا جاتا رہا۔ دبئی کا واقعہ انہیں دوبارہ سامنے لے آیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حادثے کے فوراً بعد بھارتی میڈیا نے حسب روایت عجیب و غریب دلیلیں دینا شروع کر دیں۔ کسی نے دبئی کے موسم کو مورد الزام ٹھہرایا، کسی نے تکنیکی کارکردگی کو دشمنوں کی سازش سے جوڑ دیا۔ یہ وہی منطق ہے جس سے کبھی چاند پر اترنے والا بھارتی جہاز بھی زمین سے ٹکرا کر کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔
رافیل کی مثال کو بھی کون بھول سکتا ہے۔ بھارت نے فرانس سے کثیر سرمایہ خرچ کرکے یہ طیارے خریدے تھے۔ خریداری میں سیاسی تنازعات اٹھے، معاہدے پر سوال اٹھے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بھارت ان طیاروں کی اصل صلاحیت سے فائدہ ہی نہ اٹھا سکا۔ بھارت کا مسئلہ ہمیشہ سے ایک ہی ہے کہ وہ مشینیں تو خرید لیتا ہے مگر ان پر مہارت حاصل نہیں کر پاتا۔ تربیت کمزور ہو، نظم و ضبط نہ ہو اور مشقیں رسمی ہوں تو دنیا کا بہترین اسلحہ بھی صرف دھات کا ایک بے سمت ڈبہ رہ جاتا ہے۔ بھارت کے ساتھ یہی ہوا اور ہو بھی کیوں نہ۔ جنگوں میں وہ ہمیشہ تعداد پر اعتماد کرتا رہا ہے، قابلیت پر نہیں۔
یہاں پاکستان کا ذکر ناگزیر ہے کیونکہ تقابل دونوں کا ہمیشہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی فضائیہ نے ثابت کیا ہے کہ مہارت وسائل سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان ایئر فورس نے انیس سو پینسٹھ سے لے کر دو ہزار انیس تک ہر معرکے میں نہ صرف بہترین کارکردگی دکھائی بلکہ دنیا کو یہ بتایا کہ اصل طاقت پیشہ ورانہ تربیت، نظم اور ذہنی برتری میں ہوتی ہے۔ دو ہزار انیس میں آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ نے وہ سب کچھ واضح کر دیا جو بھارت دہائیوں سے چھپاتا آیا تھا۔ بھارتی پائلٹ جتنا جلدی پاکستانی حدود میں داخل ہوا، اس سے کہیں زیادہ تیزی سے باہر نکالا گیا۔ ایک مگ اکیس زمین بوس ہوا، دوسرا ایل او سی کے قریب گرا۔ یہ سب کچھ دنیا نے براہ راست دیکھا اور بھارت نے اسے بھی اپنی فتح قرار دینے میں دیر نہ لگائی۔ مگر حقائق وقت کے سامنے جھوٹ نہیں بولتے۔
پاکستان کا جے ایف سترہ تھنڈر آج اپنی قیمت اور کارکردگی کے لحاظ سے نہ صرف بہترین مانا جاتا ہے بلکہ دنیا کے کئی ملک اس میں عملی دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ یہ حقیقت بھارت کے لیے اس سے زیادہ تکلیف دہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ پاکستان کم وسائل سے وہ نتائج حاصل کر رہا ہے جو بھارت اربوں خرچ کر کے بھی حاصل نہیں کر پا رہا۔ وسائل اور دعووں کے فرق نے ایک بار پھر دبئی میں بھارتی کارکردگی کو بے نقاب کر دیا۔
حادثے کی بین الاقوامی کوریج بھی دلچسپ تھی۔ عالمی میڈیا نے اسے بھارتی دفاعی نظام کے مسائل سے جوڑ کر پیش کیا۔ کچھ تجزیہ کاروں نے اسے بھارتی فوجی تربیت کی کمزوری قرار دیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت میں جنگی طیاروں کے حادثات کی شرح خطے میں سب سے زیادہ ہے اور یہ معاملہ صرف تیجس تک محدود نہیں۔ رافیل، مگ، سکھوئی اور دیگر طیاروں کے گرنے کی ایک لمبی فہرست ہے جس کے باوجود بھارتی قیادت ہر بار اپنی غلطیوں کو پردے میں رکھنے کے لیے کوئی نیا بیانیہ گھڑ لیتی ہے۔
تحریر کے اختتام پر وہ بات کہنا ضروری ہے جو کئی مبصرین بھی دہرا رہے ہیں۔ اگر بھارت جدید اسلحے کو سیاسی نمائش کے بجائے پیشہ ورانہ تربیت کے تناظر میں دیکھنا شروع کر دے تو شاید اسے کچھ فائدہ ہو جائے۔ مسائل کا حل دعووں اور پریس کانفرنسوں سے نہیں نکلتا بلکہ سچ بولنے کی جرات سے نکلتا ہے۔ دبئی میں گرنے والا تیجس ایک حادثہ ضرور تھا مگر یہ حادثہ نہیں بلکہ ایک علامت ہے۔ علامت اس بات کی کہ بھارت ابھی وہ نہیں بن سکا جو وہ دنیا کو دکھانا چاہتا ہے۔ اصل طاقت شور میں نہیں بلکہ خاموش مہارت میں ہوتی ہے اور یہ حقیقت پاکستان کی فضائیہ نے بارہا ثابت کی ہے۔
یوسف صدیقی








